شاعری

دستار بہت روئی دینار بہت رویا

دستار بہت روئی دینار بہت رویا جب دام لگے میرے بازار بہت رویا کچھ بھی نہ ہوا حاصل بے کار بہت رویا جب ہوش میں آیا تو مے خوار بہت رویا منہ زور تلاطم نے چھوڑا نہ سفینے کو جب بس نہ چلا کوئی پتوار بہت رویا ہم نے تو صنم تیری چپ چاپ پرستش کی لیکن یہ دل بسمل ہر بار بہت رویا تحریر میں جب ...

مزید پڑھیے

اے دل ناداں تجھے سمجھائیں کیا

اے دل ناداں تجھے سمجھائیں کیا آرزوئے وصل میں مر جائیں کیا ایک روشن دل ہمارے پاس ہے ہم اندھیروں سے بھلا گھبرائیں کیا جب سفر کی کوئی بھی منزل نہیں ہم بھی خاک رہ گزر بن جائیں کیا کیا کریں جب کھیت چڑیاں چگ گئیں اب اگر پچھتائیں تو پچھتائیں کیا بے وفا کو با وفا کہنے لگیں عشق کی رسم ...

مزید پڑھیے

ہر ایک برگ چمن مشک بار آئے گا

ہر ایک برگ چمن مشک بار آئے گا خزاں کے بعد گل نو بہار آئے گا بلندیاں تو مشقت سے ہاتھ آتی ہیں گلوں کے ساتھ یقینی ہے خار آئے گا مجھے یقیں ہے کسی دن تو اے جفا پیشہ تجھے بھی میری وفاؤں پہ پیار آئے گا ہمارا عشق کرامت سے کم نہیں جاناں تمہارے حسن پہ اس سے نکھار آئے گا اگر میں تم سے ...

مزید پڑھیے

کبھی طوفان کے ڈر سے قدم موڑے نہیں جاتے

کبھی طوفان کے ڈر سے قدم موڑے نہیں جاتے کسی صورت اصول زندگی توڑے نہیں جاتے کسی سے آس کیا رکھنا مداوا کیوں کرے کوئی جو ہم خود آپ اٹکاتے ہیں وہ روڑے نہیں جاتے کوئی چاقو کوئی خنجر یا پھر تلوار لے کر آ کہ ہم سے خون کے رشتے یوں ہی توڑے نہیں جاتے ارے ناداں ذرا تھم جا گھڑی بھر سوچ لے رک ...

مزید پڑھیے

وہ طلوع منظر پر اثر تجھے یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہ طلوع منظر پر اثر تجھے یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہ وداع شب وہ نئی سحر تجھے یاد ہو کہ نہ یاد ہو کبھی چاند تاروں میں ڈھونڈھنا کبھی ماہ پاروں میں دیکھنا وہ تلاش جلوۂ معتبر تجھے یاد ہو کہ نہ یاد ہو تھیں سخن سخن تری رفعتیں وہ غزل غزل تری نکہتیں تھا تو شعر شعر میں جلوہ گر تجھے یاد ہو کہ نہ ...

مزید پڑھیے

ہم کو ایسا گمان ہونے لگا

ہم کو ایسا گمان ہونے لگا وقت کچھ مہربان ہونے لگا دل میں کس کا خیال آیا ہے خوشبو خوشبو مکان ہونے لگا اس نے زلفیں بکھیر دیں اپنی بادلوں کا گمان ہونے لگا پھر کبوتر اڑائے ہیں اس نے پھر لو امن و امان ہونے لگا ان کی نظریں بدل گئیں شاید وقت نامہربان ہونے لگا پھر وہ روٹھا ہے چاند سا ...

مزید پڑھیے

اگر سجدوں میں سوز دل نہیں ہے

اگر سجدوں میں سوز دل نہیں ہے عبادت کا کوئی حاصل نہیں ہے بھٹکنے سے بھی کچھ حاصل نہیں ہے سفر کی جب کوئی منزل نہیں ہے زبان حال سے کہتی ہیں لاشیں محبت کا کوئی قائل نہیں ہے اثر جس پر نہ ہو آہ و فغاں کا وہ سچ مچ پیار کے قابل نہیں ہے یقیناً وہ یہیں ہوگا کہیں پر مرا دل گمشدہ فائل نہیں ...

مزید پڑھیے

مرا مشکل کشا ہے اور میں ہوں

مرا مشکل کشا ہے اور میں ہوں اسی کا آسرا ہے اور میں ہوں مرا دست دعا ہے اور میں ہوں صدائے بے صدا ہے اور میں ہوں دل غم آشنا ہے اور میں ہوں جفائے ناروا ہے اور میں ہوں ستم سہنے کی عادت پڑ گئی ہے وفاؤں کا صلہ ہے اور میں ہوں میں کیسے جھوٹ بولوں سوچتا ہوں مقابل آئنہ ہے اور میں ہوں جسے ...

مزید پڑھیے

گاؤں آ کر جو اپنا گھر دیکھا

گاؤں آ کر جو اپنا گھر دیکھا دل کو آزردہ کس قدر دیکھا گھر تھا خاموش اونگھتی گلیاں ایک سناٹا سربسر دیکھا آشیاں تھا جو ہم پرندوں کا تنہا تنہا سا وہ شجر دیکھا کس کے شانے پہ رکھ کے سر روتے کوئی رشتہ نہ معتبر دیکھا کھیت کھلیان ساتھ رونے لگے روتا ہم کو جو اس قدر دیکھا عیش و عشرت کی ...

مزید پڑھیے

دل میں ہو جو بھی بہر خدا کہہ لیا کرو

دل میں ہو جو بھی بہر خدا کہہ لیا کرو اچھا نہیں کہو تو برا کہہ لیا کرو خون جگر کو رنگ حنا کہہ لیا کرو ان کے ستم کو ان کی ادا کہہ لیا کرو تہذیب غم یہ کہتی ہے خاموش لب رہیں آنکھوں سے اپنی شکوہ گلہ کہہ لیا کرو ممکن نہیں ہے دوست غم عشق سے نجات اب درد کو ہی دل کی دوا کہہ لیا کرو یہ بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 87 سے 4657