شاعری

کوئی شے ہے جو سنسناتی ہے

کوئی شے ہے جو سنسناتی ہے ایک دہشت سی پھیل جاتی ہے زندگی کٹ رہی ہے سائے میں دھوپ آتی ہے لوٹ جاتی ہے جیسے جنگل پکارتا ہو مجھے رات بھر اک صدا سی آتی ہے گونج اٹھتا ہے گہرا سناٹا نیند جب دھڑکنوں کو آتی ہے کیسی یادوں کے دیپ جل اٹھے دور تک روشنی نہاتی ہے اتنی غزلوں میں کوئی اچھی ...

مزید پڑھیے

مے کشی کی شراب کی باتیں

مے کشی کی شراب کی باتیں توبہ توبہ جناب کی باتیں میں نے کب پی حساب سے یا رب مجھ سے پھر کیوں حساب کی باتیں تو غفور‌‌ الرحیم ہے بے شک پھر یہ کیسی عذاب کی باتیں ایروں غیروں سے ہم نہیں کرتے دل خانہ خراب کی باتیں کتنا کھل کھل کے لوگ کرتے ہیں شرمساری حجاب کی باتیں دل نشیں دل فریب ...

مزید پڑھیے

تجھے کیا ہوا ہے بتا اے دل نہ سکون ہے نہ قرار ہے

تجھے کیا ہوا ہے بتا اے دل نہ سکون ہے نہ قرار ہے کبھی اس حسین کی چاہ ہے کبھی اس نگار سے پیار ہے جو سمجھ میں آئے وہ بات کیا یہ معاملات ہیں عشق کے کہ نقاب رخ پہ رہے مگر ہے یقین یہ وہی یار ہے یہ ہیں اپنے ذہن کے عکس سب یہاں اصل کیا ہے خیال کیا یہ خزاں کے رنگ ہیں بے خبر تو سمجھ رہا ہے بہار ...

مزید پڑھیے

اک ترا درد ہے تنہائی ہے رسوائی ہے

اک ترا درد ہے تنہائی ہے رسوائی ہے تین لفظوں میں مری زیست سمٹ آئی ہے زندگی الجھے ہوئے خواب کا ابہام کبھی کبھی اس شوخ کی اٹھتی ہوئی انگڑائی ہے کتنے پیچیدہ ہیں جذبات غزل کیا کہیے خامہ حیران ادھر سلب یہ گویائی ہے ہو وہ پھولوں کا تبسم کہ غزالوں کا خرام جو ادا آئی ہے تجھ میں وہ نکھر ...

مزید پڑھیے

نہیں اس دشت میں کوئی خضر ہے

نہیں اس دشت میں کوئی خضر ہے کہ بس میں ہوں مری گرد سفر ہے حقیقت آخری یہ مختصر ہے کہیں سنسان سا تاریک گھر ہے نہ سنگ راہ ہے نہ راہ بر ہے بھٹکتا دل ہے اور دھندلی نظر ہے جو منزل ہی سے ہو غافل مسافر بھلا کیا لطف جو روشن نظر ہے نہ عالم ہم سے خوش نہ خود سے ہم خوش یہ بینا آنکھ بھی کیا درد ...

مزید پڑھیے

اور کر لیں گے وہ کیا اب ہمیں رسوا کر کے

اور کر لیں گے وہ کیا اب ہمیں رسوا کر کے اب جو آئے ہیں تو جائیں گے تماشا کر کے اپنی تخلیق کے اکمال سے سودا کر کے کون اس پردے میں بیٹھا ہے تماشا کر کے اک زمانہ ہے پریشان معمہ کیا ہے تم تو غائب ہوئے کچھ کام ادھورا کر کے تیرے جلوے کی ہوس ہم کو ہر اک رنگ میں ہے سوئے بت خانہ چلے جاتے ہیں ...

مزید پڑھیے

کیوں اور زخم سینے پہ کھاؤ ہو دوستو

کیوں اور زخم سینے پہ کھاؤ ہو دوستو کاہے کسی سے آس لگاؤ ہو دوستو اک آبرو بچی ہے سو رکھیو سنبھال کے کس پاس کیا غرض لئے جاؤ ہو دوستو پہنچے وہیں ہیں آج جہاں سے چلے تھے ہم اب راہ کون اور دکھاؤ ہو دوستو اس طبع سے تو خود ہی پریشان ہے یہ دل ٹھیس اس کو اور کاہے لگاؤ ہو دوستو جور و جفائے ...

مزید پڑھیے

بجلی کہیں گرائے زمانے گزر گئے

بجلی کہیں گرائے زمانے گزر گئے جلوہ اسے دکھائے زمانے گزر گئے تم سے نگاہ ہٹتی نہ تھی وہ بھی وقت تھا لمحات اب وہ آئے زمانے گزر گئے کیوں چھانتے ہو خاک میاں کوئے یار کی اس کو تو خط جلائے زمانے گزر گئے کیسے کہیں کہ رابطہ اس سے رہا نہیں جس کو ہمیں بھلائے زمانے گزر گئے اک بار اس کی دید ...

مزید پڑھیے

سر تسلیم مرا خم نہیں ہونے دیتا

سر تسلیم مرا خم نہیں ہونے دیتا وہ مرا رب مجھے برہم نہیں ہونے دیتا غیب سے آج بھی کرتا ہے حفاظت میری سر نگوں وہ مرا پرچم نہیں ہونے دیتا جب بھی ملتا ہے مجھے زخم نیا دیتا ہے وہ ملاقات کو مرہم نہیں ہونے دیتا شعر کہنے کا وہ انداز ملا ہے مجھ کو جوش محفل مجھے مدھم نہیں ہونے دیتا اب تو ...

مزید پڑھیے

تنہا قمر کو چھوڑ کے تارے چلے گئے

تنہا قمر کو چھوڑ کے تارے چلے گئے غربت میں جیسے یار ہمارے چلے گئے ہم زندگی کو ایسے گزارے چلے گئے جیسے کہ کوئی قرض اتارے چلے گئے تم کیا بدل گئے کہ زمانہ بدل گیا خوش قسمتی کے سارے ستارے چلے گئے جو پھل گرے زمیں پہ وہ یاروں نے چن لیے ہم پتھروں کو پیڑ پہ مارے چلے گئے اس نے بڑے فریب سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 86 سے 4657