ابر سیاہ قوس قزح چاندنی غزل
ابر سیاہ قوس قزح چاندنی غزل ہر منظر حیات میں ڈھلتی رہی غزل شانوں پہ اس نے ڈال دی اک سرمئی غزل جیسے فلک سے آئے کوئی جھومتی غزل اوڑھی کبھی تو ہم نے بچھائی کبھی غزل لیکن ہمارے کام نہ آئی کوئی غزل جب بھی تصورات نے آواز دی تجھے تحریر دل پہ ہو گئی اک چاند سی غزل ہر شے حضور حسن میں ...