شاعری

ہر دم کی کشمکش سے نکل راستہ بدل

ہر دم کی کشمکش سے نکل راستہ بدل اب اور ان کے ساتھ نہ چل راستہ بدل یہ خلفشار ذہن یہ خدشے یہ حجتیں ان سب کا بس ہے ایک ہی حل راستہ بدل نخوت پرست لوگوں کو چھوڑ ان کے حال پر وقت ان کے خود نکالے گا بل راستہ بدل سوچوں میں جن کی تازہ ہوا کا گزر نہیں کر دیں گے تیرا ذہن بھی شل راستہ بدل یہ ...

مزید پڑھیے

برتے کچھ امتیاز تو انسان کم سے کم

برتے کچھ امتیاز تو انسان کم سے کم ہو اپنے دوستوں کی تو پہچان کم سے کم اہل غرض کسی کے ہوئے ہیں جو ہوں مرے اتنا تو سوچ اے دل نادان کم سے کم ہوگا یہی بہت سے بہت جاں سے جائیں گے رہ جائے گی وفا کی مگر آن کم سے کم چلئے معاملہ یہ کسی سمت تو ہوا کم تو ہوا یہ روز کا خلجان کم سے کم ایسا نہیں ...

مزید پڑھیے

کتنے برسے نگر نگر پتھر

کتنے برسے نگر نگر پتھر حوصلے کر نہ پائے سر پتھر جو نشاں زد ہوئے ہیں اپنے لیے وہ تو سب آئیں گے ادھر پتھر بات کہہ دی تھی اک خدا لگتی میری سمت آئے کس قدر پتھر دیکھ مہنگی پڑے گی من مانی باندھنے ہوں گے پیٹ پر پتھر کس نے کیچڑ میں سنگ مارا ہے پڑ گئے کس کی فہم پر پتھر سوچ کے کر کسی پہ ...

مزید پڑھیے

سامنے ہو کر بھی کب سب پر عیاں ہوتے ہیں لوگ

سامنے ہو کر بھی کب سب پر عیاں ہوتے ہیں لوگ جو نظر آتے ہیں ویسے ہی کہاں ہوتے ہیں لوگ چھاپ سے ماحول کی بچنا بہت دشوار ہے اپنے گرد و پیش ہی کے ترجماں ہوتے ہیں لوگ پستیوں میں بھی نظر آتے ہیں عظمت کے نشاں خاک پر رہتے ہوئے بھی آسماں ہوتے ہیں لوگ قافلہ سالار جب ہوتے ہیں اف وہ ...

مزید پڑھیے

خبط عظمت میں گرفتار نہیں بھی ہوتے

خبط عظمت میں گرفتار نہیں بھی ہوتے لوگ کچھ باعث آزار نہیں بھی ہوتے پس بازار بھی بک جاتے ہیں بکنے والے کتنے سودے سر بازار نہیں بھی ہوتے یوں بھی ہوتا ہے کسی پل کہ مزاحم حالات راہ دے دیتے ہیں دیوار نہیں بھی ہوتے اک تماشا سا بہ ہر حال لگا رہتا ہے منظر عام پہ کردار نہیں بھی ہوتے بار ...

مزید پڑھیے

جوش جنوں کو کوئی بھی پیمانہ چاہیے

جوش جنوں کو کوئی بھی پیمانہ چاہیے پانی کو اب تو سر سے گزر جانا چاہیے میرے علاوہ کون ہے اس کا کوئی نہیں لاش خیال یار کو کفنانا چاہیے مانوسیت نے گھر کی فضا کو بدل دیا دیوار و در کو میں نہیں بیگانہ چاہیے ممکن ہے عمر بھر کی تھکن نذر لہر ہو ساحل کی ریت پر مجھے سستانا چاہیے کل ہو نہ ...

مزید پڑھیے

رہتے ہیں انتشار میں سائے ادھر ادھر

رہتے ہیں انتشار میں سائے ادھر ادھر امکان عشق سب ہی گنوائے ادھر ادھر میں دشت بے گیاہ میں بھیجی گئی مگر کرتی پھروں میں دشت میں ہائے ادھر ادھر اہل زبان گم رہے تسبیح میں مری رکھوں میں جان شوق چھپائے ادھر ادھر صحرا کو پیاس سونپ کے دریا سمٹ گیا ابر سیاہ دور ہی چھائے ادھر ادھر وہ ...

مزید پڑھیے

لپکے جنوں شعار یکے بعد دیگرے

لپکے جنوں شعار یکے بعد دیگرے پایا فراز دار یکے بعد دیگرے لب بستہ بستیوں کا پھر انجام یہ ہوا سب کا لٹا قرار یکے بعد دیگرے یہ کیا کہ اہل دل ہی کے حصے میں آئے ہیں الزام بے شمار یکے بعد دیگرے دل کا کمال ہے متزلزل نہیں ہوا کتنے ہوئے ہیں وار یکے بعد دیگرے ان مسئلوں نے ڈھنگ سے جینے ...

مزید پڑھیے

تمہیں پسند ہے تنہا سفر زیادہ تر

تمہیں پسند ہے تنہا سفر زیادہ تر یہی رہا مرے پیش نظر زیادہ تر گماں کہ لوٹ کے آ جائیں گے کسی ساعت اسی گماں نے اجاڑے ہیں گھر زیادہ تر گریز کے کوئی لمحے بھی آ گئے ہوں گے تمہاری یاد رہی ہم سفر زیادہ تر دکھائی دیتی ہیں کب خود کو خامیاں اپنی فریب کھاتی ہے اپنی نظر زیادہ تر کہاں مقام ...

مزید پڑھیے

وہ لوگ جن کو ہے اب خود کشی سے دلچسپی

وہ لوگ جن کو ہے اب خود کشی سے دلچسپی کبھی بہت تھی انہیں زندگی سے دلچسپی ہے رسم و راہ بس اپنے مفاد کی حد تک یہاں کہاں ہے کسی کو کسی سے دلچسپی معاملات کیے جائیں اب سپرد ان کے معاملات میں جو لیں خوشی سے دلچسپی نہ سمت دیکھی نہ رستہ عجیب عالم تھا ہمیں تھی صرف تری ہمرہی سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 855 سے 4657