شاعری

سمجھ میں خاک یہ جادوگری نہیں آتی

سمجھ میں خاک یہ جادوگری نہیں آتی چراغ جلتے ہیں اور روشنی نہیں آتی کسی کے ناز پہ افسردہ خاطری دل کی ہنسی کی بات ہے پھر بھی ہنسی نہیں آتی نہ پوچھ ہیئت طرف و چمن کہ ایسی بھی بہار باغ میں بہکی ہوئی نہیں آتی ہجوم عیش تو ان تیرہ بستیوں میں کہاں کہیں سے آہ کی آواز بھی نہیں ...

مزید پڑھیے

اے دل اب اور کوئی قصۂ دنیا نہ سنا

اے دل اب اور کوئی قصۂ دنیا نہ سنا چھیڑ دے ذکر وفا ہاں کوئی افسانہ سنا غیبت دہر بہت گوش گنہ گار میں ہے کچھ غم عشق کے اوصاف کریمانہ سنا کار دیروز ابھی آنکھوں سے کہاں سمٹا ہے خوں رلانے کے لیے قصۂ فردا نہ سنا دامن باد کو ہے دولت شبنم کافی روح کو ذکر تنک بخشئ دریا نہ سنا سنتے ہیں اس ...

مزید پڑھیے

اک مہک سی دم تحریر کہاں سے آئی

اک مہک سی دم تحریر کہاں سے آئی نام میں تیرے یہ تاثیر کہاں سے آئی پہلوئے ساز سے اک موج ہوا گزری تھی یہ چھنکتی ہوئی زنجیر کہاں سے آئی دم ہمارا تو رہا حلقۂ لب ہی میں اسیر بوئے گل یہ تری تقدیر کہاں سے آئی اہل ہمت کے مٹانے سے تو فارغ ہو لے دہر کو فرصت تعمیر کہاں سے آئی گو ترستا ہے ...

مزید پڑھیے

تم سے الفت کے تقاضے نہ نباہے جاتے

تم سے الفت کے تقاضے نہ نباہے جاتے ورنہ ہم کو بھی تمنا تھی کہ چاہے جاتے دل کے ماروں کا نہ کر غم کہ یہ اندوہ نصیب زخم بھی دل میں نہ ہوتا تو کراہے جاتے کم نگاہی کی ہمیں خود بھی کہاں تھی توفیق کم نگاہی کے لئے عذر نہ چاہے جاتے کاش اے ابر بہاری ترے بہکے سے قدم میری امید کے صحرا میں بھی ...

مزید پڑھیے

دل پہ جب تیرا تصور چھا گیا

دل پہ جب تیرا تصور چھا گیا زندگی کا آئنہ دھندلا گیا عمر بھر کوئی خوشی آئی نہ راس روٹھ کر اس دل سے تو اچھا گیا آدمی کے آئنے میں دیکھ کر اپنی صورت سے خدا شرما گیا میں تو رو رو کر سدا کھلتا رہا تو اے گل ہنسنے پہ بھی مرجھا گیا دے کے کوئی مسکراہٹ کا کفن آرزو کو دل میں ہی دفنا گیا لے ...

مزید پڑھیے

اللہ دے سکے تو دے ایسی زباں مجھے

اللہ دے سکے تو دے ایسی زباں مجھے اپنا سمجھ کے دل سے لگا لے جہاں مجھے صحن چمن سے جب بھی اٹھا ہے دھواں کبھی یاد آ کے رہ گیا ہے مرا آشیاں مجھے خار نفس نے مجھ کو نہ سونے دیا کبھی اک عمر موت دیتی رہی لوریاں مجھے میں اک چراغ لاکھ چراغوں میں بٹ گیا رکھا جو آئنوں نے کبھی درمیاں ...

مزید پڑھیے

کس طرف سے آ رہی ہیں درد کی پروائیاں

کس طرف سے آ رہی ہیں درد کی پروائیاں آگ سی دینے لگی ہیں بھیگتی انگنائیاں میں کہاں تھا جب فرشتوں نے خوشی انساں کو دی کیوں مرے حصے میں آئیں صرف اشک آرائیاں یہ شباب و حسن تیرا اور یہ ناز و ادا ٹوٹتی ہیں دونوں ہاتھوں سے تری انگڑائیاں میں کہاں جا کر چھپوں اے گردش دوراں بتا ڈھونڈ ...

مزید پڑھیے

کتاب عمر میں اک وہ بھی باب ہوتا ہے

کتاب عمر میں اک وہ بھی باب ہوتا ہے ہر اک سوال جہاں لا جواب ہوتا ہے میں پی گیا ہوں یہی سوچ کر ترے آنسو حسین آنکھوں کا پانی شراب ہوتا ہے مرے بھی ہاتھ میں آیا تھا جام ٹوٹ گیا کسی کسی کا مقدر خراب ہوتا ہے لبوں سے حرف محبت ادا نہیں ہوتا نظر نظر سے سوال و جواب ہوتا ہے کسی کے درد کو ...

مزید پڑھیے

جب بھی بھولے سے کبھی لب پہ ہنسی آئی ہے

جب بھی بھولے سے کبھی لب پہ ہنسی آئی ہے غم کی تصویر مرے ذہن پہ لہرائی ہے اس قدر چرچا ہے کچھ آمد فصل گل کا خار کو خار نہ کہنے ہی میں دانائی ہے بن گئی خار سر شاخ کلی وہ اک دن پھول بننے کی تمنا میں جو مرجھائی ہے آنکھ نے دیکھا نہیں ایک بھی گل خندہ بہ لب صرف کانوں نے سنا ہے کہ بہار آئی ...

مزید پڑھیے

مہماں کو گھر میں آئے زمانہ گزر گیا

مہماں کو گھر میں آئے زمانہ گزر گیا دل کا دیا بجھائے زمانہ گزر گیا آنکھوں میں اشک آئے ہیں سن کر ہنسی کا نام لیکن ہنسی کو آئے زمانہ گزر گیا اے زندگی اتار بھی اس بار دوش کو میت مری اٹھائے زمانہ گزر گیا کیا جانے کیا چھپائے تھا دامن کی اوٹ میں مجھ سے نظر بچائے زمانہ گزر گیا کہتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 854 سے 4657