شاعری

ایک اک بات کا پتا ہے مجھے

ایک اک بات کا پتا ہے مجھے سارے حالات کا پتا ہے مجھے میں نے دیکھے ہیں سب نشیب و فراز جیت اور مات کا پتا ہے مجھے اپنی کمزوریوں سے واقف ہوں اپنی اوقات کا پتا ہے مجھے تو ابھی منزل گمان میں ہے تیرے شبہات کا پتا ہے مجھے بے سکونی نظر میں ہے تیری تیرے دن رات کا پتا ہے مجھے ہاتھ ہے ایک ...

مزید پڑھیے

زہر کے جام ہیں بہت سارے

زہر کے جام ہیں بہت سارے سچ کے انعام ہیں بہت سارے یہ جو ان کا سلام آیا ہے اس میں پیغام ہیں بہت سارے ذکر کس کا کریں کسے چھوڑیں ذہن میں نام ہیں بہت سارے سادگی کم نوائی نادانی ہم پہ الزام ہیں بہت سارے ایک ہی کام تو نہیں ہم کو اور بھی کام ہیں بہت سارے بچ کے چلنا نہیں نعیمؔ آساں دام ...

مزید پڑھیے

کبھی ہنسنا کبھی رونا کبھی نالے ہیں ترے

کبھی ہنسنا کبھی رونا کبھی نالے ہیں ترے کیا کہوں ہائے کہ سب روپ نرالے ہیں ترے چاندنی پھول کہ خوشبو کا تصور کرنا نام کچھ بھی رہے یہ سب ہی حوالے ہیں ترے اب تو اس دل میں نہیں کچھ بھی بچا تیرے سوا ان میں یادوں کے نئے زخم جو پالے ہیں ترے دشت کا دشت ترے ہجر میں چھانا میں نے پاؤں میرے ...

مزید پڑھیے

خاک نے اپنا تسلط تھا جمایا جس دم

خاک نے اپنا تسلط تھا جمایا جس دم میں نے افلاک کو سوچوں سے اٹھایا جس دم میرے اطراف بھی کہرام کا بادل برسا میں نے اک شخص کو کچھ دیر ہی سوچا جس دم رابطہ ٹوٹ کے حیرانی تلک آ پہنچا ایک اپنا مرا اغیار میں بیٹھا جس دم وقت تو آن ہی پہنچا تھا ترے وصل کا بھی سلسلہ سانس کا اس روح سے ٹوٹا جس ...

مزید پڑھیے

اپنے نخرے سنبھال چلتا بن

اپنے نخرے سنبھال چلتا بن تجھ میں کیا ہے کمال چلتا بن روبرو تیرے رکھ دیا میں نے ہر جواب و سوال چلتا بن فون کرتا ہے روز جس کو تو رکھ اسی کا خیال چلتا بن کنکری بھی پہاڑ جیسی ہے اپنے پتھر سنبھال چلتا بن فانی دنیا میں ہم بشر جیسے اور تو بے مثال چلتا بن تو ہماؔ کو جو سخت سست کہے تیری ...

مزید پڑھیے

عذاب دید کا مژدہ سنا رہا ہے مجھے

عذاب دید کا مژدہ سنا رہا ہے مجھے کسی کی بات سنا کر جلا رہا ہے مجھے وہ اپنے سچ کو کبھی کر نہیں سکا ثابت جو ایک عمر سے جھوٹا بنا رہا ہے مجھے جو شخص میم کے مفہوم تک نہیں پہنچا خدا کی شان محبت سکھا رہا ہے مجھے اسے عروج کا مفہوم آ گیا ہے سمجھ سو اس لیے بھی نظر سے ہٹا رہا ہے مجھے حصار ...

مزید پڑھیے

خیالی طاقچے میں دھر دیا دیا لوگو

خیالی طاقچے میں دھر دیا دیا لوگو کسی نے جیسا کہا میں نے وہ کیا لوگو یہ سوچ کر کہ نشانی ہے جانے والے کی وہ زخم میں نے کبھی بھی نہیں سیا لوگو نہ چاہ کر بھی میں گھنگھرو گوارا کر لوں گی کسی بھی طور سے مانے مرا پیا لوگو میں جس کے ہجر میں گھٹ گھٹ کے مرنے والی ہوئی وہ شخص کھل کے مری ...

مزید پڑھیے

اور ہوں گے وہ جنہیں ضبط کا دعویٰ ہوگا

اور ہوں گے وہ جنہیں ضبط کا دعویٰ ہوگا ہر بن مو سے یہاں ذکر کسی کا ہوگا حسن کیوں عشق کی تشہیر پہ شاداں ہے بہت عشق رسوا ہے تو کیا حسن نہ رسوا ہوگا اشک بن بن کے وہ آنکھوں سے ٹپک جائے گی کیا خبر تھی کہ یہ انجام تمنا ہوگا کہیں رسوا نہ کرے حیرت دیدار مجھے آج وہ جلوۂ مستور ہویدا ...

مزید پڑھیے

رخ ترا ماہتاب کی صورت

رخ ترا ماہتاب کی صورت آنکھ جام شراب کی صورت میری فکر سخن بھی رنگیں ہے تیرے حسن شباب کی صورت میری آنکھوں میں آ کے بس جاؤ ایک رنگین خواب کی صورت میرے دل پر محیط ہو جاؤ کیف جام شراب کی صورت مجھ کو مرغوب ہے تری آواز نغمہ ہائے رباب کی صورت جن کے سر میں ہوا سمائی تھی مٹ گئے وہ ...

مزید پڑھیے

میں اک شاعر ہوں اسرار حقیقت کھول سکتا ہوں

میں اک شاعر ہوں اسرار حقیقت کھول سکتا ہوں ندائے غیب بن کر سب کے دل میں بول سکتا ہوں خدا نے جس طرح کھولا ہے میرے دل کی آنکھوں کو یوں ہی میں ہر کسی کے دل کی آنکھیں کھول سکتا ہوں ودیعت کی ہے قدرت نے وہ میزان نظر مجھ کو کہ خوب و زشت عالم کو بخوبی تول سکتا ہوں قناعت کا یہ عالم ہے کہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 856 سے 4657