شاعری

خد و خال سے خالی ہے

خد و خال سے خالی ہے یہ تصویر تو جعلی ہے کہتے ہیں مرگ مفاجات حکم جناب عالی ہے لشکر اسہال زدہ کی میں نے کمان سنبھالی ہے دنیا کی آواز سنو ایک ہی ہاتھ کی تالی ہے ہر اک انسان کے اندر بیٹھا ایک موالی ہے عملہ معطل ہے دل کا جاری سعیٔ بحالی ہے قیمت الگ ہے خصلت ایک یہ گندم وہ شالی ...

مزید پڑھیے

سورج تو دے دیا تھا ستارہ بھی دے دیا

سورج تو دے دیا تھا ستارہ بھی دے دیا پھر ہم نے اس کو خاک کا خرقہ بھی دے دیا اصلاً تو شہر عشق کے معمار تھے مگر رب نے دیار درد کا ٹھیکا بھی دے دیا دامن پکڑ کے پیچھے یہ قلاش تھی پڑی دنیا کو ہم نے بھیک کا کاسہ بھی دے دیا پگڑی دکان سنگ تراشی کی لی مگر روکن میں کار خانۂ‌ شیشہ بھی دے ...

مزید پڑھیے

اب مسخری مت کر چھوڑ فقیر

اب مسخری مت کر چھوڑ فقیر اٹھ مری چادر چھوڑ فقیر نیند نوالہ فرش دوشالہ دہلیز سے باہر چھوڑ فقیر تو اور سرہانا ڈھونڈ کوئی اس قبر کا پتھر چھوڑ فقیر اندر کا جو بھی شوشہ ہے اندر ہی اندر چھوڑ فقیر ہیں اور بھی لنگر دنیا میں اس درگہ کا در چھوڑ فقیر داب چکا میں تیرے پاؤں اب تو مرا سر ...

مزید پڑھیے

حسن لاچار کی باتیں کریں کیا

حسن لاچار کی باتیں کریں کیا عشق بیمار کی باتیں کریں کیا سوگواری چمن دل پر ہے برگ رخسار کی باتیں کریں کیا نار دوزخ سے ڈرانے والو ہم کسی نار کی باتیں کریں کیا کیسے حالات سے سمجھوتہ کیا اب یہ بیکار کی باتیں کریں کیا سب مکینوں سے تعارف تو ہوا در و دیوار کی باتیں کریں کیا وجہ ...

مزید پڑھیے

گلوں میں رنگ بھرے گا مجھے یہ فکر نہیں

گلوں میں رنگ بھرے گا مجھے یہ فکر نہیں چنار پھر سے جلے گا مجھے یہ فکر نہیں وہ اونٹ سونگھ کے محمل نشینوں کی خوشبو اٹھے گا یا نہ اٹھے گا مجھے یہ فکر نہیں وہ میرے آگے کوئی مورچہ سنبھالے گا کہ میرے پیچھے چھپے گا مجھے یہ فکر نہیں ہوائیں سنگ کو تعلیم حبس دم دیں یا شجر وظیفہ پڑھے گا ...

مزید پڑھیے

میں سوچتا ہوں کنارہ کروں محبت سے

میں سوچتا ہوں کنارہ کروں محبت سے گزر ہی جاؤں کسی دن مقام عبرت سے میں ایک تختۂ یخ کو پکڑ کے بہتا ہوں بھنور کی آنکھ مجھے تک رہی ہے حیرت سے عجب نہیں کہ جنوں میں یہ معجزہ بھی ہو میں اختیار میں آ جاؤں اپنے وحشت سے غبار خواب اڑا کے گزر گیا کوئی لگی تھی آنکھ مری چاندنی میں غفلت سے نظر ...

مزید پڑھیے

قرض کی مہلت گزر گئی ہے

قرض کی مہلت گزر گئی ہے بھائی مدت گزر گئی ہے وصل کے دعویدار کہو کیا ہجر کی عدت گزر گئی ہے ہم تو ایسے رونے لگے ہیں جیسے محبت گزر گئی ہے دشت جنوں! مجنوں کے غم میں کیا بے وحشت گزر گئی ہے عشق سے بے پروا لوگوں کی عمر سلامت گزر گئی ہے اے کفار تشنہ بدناں شب جہالت گزر گئی ہے گھور ...

مزید پڑھیے

اے موجۂ سراب تو پھانکے گی کتنی خاک

اے موجۂ سراب تو پھانکے گی کتنی خاک مجھ کو ڈبونے کے لئے چھانے گی کتنی خاک بچ جائے مشت بھر سہی دفنانے کے لئے موج بلائے عشق میں ڈوبے گی کتنی خاک کتنے حسین خواب ترستے ہیں دید کو آئینۂ جمال پہ بیٹھے گی کتنی خاک جس کے در و دریچہ و دیوار ہیں تباہ اس خانۂ سکوت کو پوچھے گی کتنی ...

مزید پڑھیے

میں ہوں اک کاغذ قلم بیزار

میں ہوں اک کاغذ قلم بیزار باد صرصر میں برگ نم بیزار عربی لوگ ہیں تو ہونے دو وہ خدا تو نہیں عجم بیزار دیکھ کر بول چہرے بشرے سے نظر آتا ہوں کیا ستم بیزار اے گریزان آبلہ پائی! دشت مجنون ہے قدم بیزار اک دل مضطرب ہے پہلو میں اور سینہ ہے ایک دم بیزار رشک شانہ سے پیچ کھاتا ہوں میں ...

مزید پڑھیے

تو نے نظر سے پیاس کی دیکھا بھی ہے کہیں

تو نے نظر سے پیاس کی دیکھا بھی ہے کہیں گرد جبین دشت میں دریا بھی ہے کہیں پھرتا رہا ہوں جس کے تعاقب میں عمر بھر کیا نقش اس خیال نے چھوڑا بھی ہے کہیں یا سب ہی میری طرح کے آوارہ گرد تھے دل میں کوئی قرار سے بیٹھا بھی ہے کہیں ہم بھی عجب تھے غاروں میں اترے یہ دیکھنے بچ کر نکلنے کا کوئی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 803 سے 4657