شاعری

لہرا رہی ہیں کھیت میں گندم کی بالیاں

لہرا رہی ہیں کھیت میں گندم کی بالیاں اور پہرے پر بجوکے ہیں لے کر دو نالیاں روئے سخن ہے اس کا خریدار کی طرف قصاب دے رہا ہے جو بلی کو گالیاں خنجر اتار دے گا جمورے کے پیٹ میں بوڑھے جوان بچے بجائیں گے تالیاں جوتے نکالتی ہیں ادب سے طوائفیں لیکن پھٹے جرابوں پہ ہنستی ہیں سالیاں بوٹا ...

مزید پڑھیے

نہیں یہ عکس ہوا ہے سمجھتا کیوں نہیں میں

نہیں یہ عکس ہوا ہے سمجھتا کیوں نہیں میں مرے قریب کھڑا ہے سمجھتا کیوں نہیں میں یہ چیز اور نہیں کوئی میرا سایا ہے مگر یہ مجھ سے جدا ہے سمجھتا کیوں نہیں میں یہ کوئی پہلو مرا ہے جو ذات سے میری کئی دنوں سے جدا ہے سمجھتا کیوں نہیں میں جہاں پہ جسم کی دیوار میں شگاف پڑا وہیں سے سبزہ اگا ...

مزید پڑھیے

خود اپنے آپ پہ ایسے عطا ہوا ہوں میں

خود اپنے آپ پہ ایسے عطا ہوا ہوں میں صدی کے سب سے بڑے جرم کی سزا ہوں میں لہولہان ہے چہرہ وجود چھلنی ہے صدی جو بیت گئی اس کا آئنہ ہوں میں عجیب عالم آہ و بکا ہے میرا وجود تڑپتے چیختے لمحوں کا مرثیہ ہوں میں عجیب سا مرے سینے میں اک تلاطم ہے کہ موج موج سمندر بنا ہوا ہوں میں کبھی تو ...

مزید پڑھیے

اسی خیال سے دل میں مرے اجالا ہے

اسی خیال سے دل میں مرے اجالا ہے دماغ وقت کی دھڑکن کو سننے والا ہے تڑپ طلب ہے مری تشنہ لب سمندر ہوں حباب کہتے ہیں جس کو زباں پہ چھالا ہے تمام خواب خیالات بن کے ٹوٹے ہیں یہ دور دیکھیے اب کیا دکھانے والا ہے میں اپنے حال سے گھبرا کے مر گیا ہوتا مجھے تو واقعی بیتے دنوں نے پالا ...

مزید پڑھیے

اب آفتاب منور پہ قرب شام ہوا

اب آفتاب منور پہ قرب شام ہوا اک اور سال مری عمر کا تمام ہوا رگوں میں گردش خوں کا غلام ٹھہرا ہے نہ اس بدن کا کبھی مجھ سے احترام ہوا مرے چہار طرف ہے حصار محرومی تمام عمر کٹی اور نہ کوئی کام ہوا کوئی زمین نہ دلدل نہ آسمان ہے اب کہاں پہنچ کے مری رہ کا اختتام ہوا عجب لطیف سی تیزابیت ...

مزید پڑھیے

وہ میری راہ سے اب مسکرا کر کیوں نہیں جاتا

وہ میری راہ سے اب مسکرا کر کیوں نہیں جاتا میں اس کی راہ تکنا چھوڑ کے گھر کیوں نہیں جاتا گر اس کا پیار سچا ہے مری قسمیں کیوں کھاتی ہے اگر جھوٹی ہے وہ لڑکی تو میں مر کیوں نہیں جاتا اگر دل میں محبت ہے تو پھر یہ بے خیالی کیوں اگر نفرت ہے جو دل میں تو دل بھر کیوں نہیں جاتا بچھڑنے کی ...

مزید پڑھیے

یہ نفرت کا بغیچہ خاک کر دیں

یہ نفرت کا بغیچہ خاک کر دیں چلو ہم اپنا غصہ خاک کر دیں کچھ اک کردار اترانے لگے ہیں یہ گویا سارا قصہ خاک کر دیں ہمارے پاؤں کے چھالے نہ دیکھو ہمیں بتلاؤ رستہ خاک کر دیں ہمیں نے دشت سے زمزم نکالا جو ہم چاہیں تو دریا خاک کر دیں ہمیں ڈر ہے جنہیں منصب ملا ہے کہیں وہ ہی نہ نقشہ خاک کر ...

مزید پڑھیے

کتنے چہرے بدل رہی دنیا

کتنے چہرے بدل رہی دنیا خوب شاطر ہے مطلبی دنیا تم کو دھوکا نہیں ملا مطلب تم کو دھوکے میں رکھ رہی دنیا ایک عاشق اداس ہے پھر سے یعنی پھر جیت ہی گئی دنیا تو جسے اپنی دنیا کہتا ہے وہ بسا لے گی اک نئی دنیا ساری دنیا میں تو ہی میرا ہے تیرے ہونے سے ہے مری دنیا

مزید پڑھیے

اگر ہم خود کو پہلے روک لیتے

اگر ہم خود کو پہلے روک لیتے تو شاید سارے صدمے روک لیتے وہ بوڑھی لاش پٹری پر نہ ملتی جو اس کو گھر پہ بیٹے روک لیتے جو تم میرے تھے تو جانا نہیں تھا کسی جاتے کو کیسے روک لیتے یہ بچے ہوٹلوں میں یوں نہ پھنستے اگر جو ان کو بستے روک لیتے اگر اک دوسرے سے یوں نہ لڑتے تو ہم دشمن کے حملے ...

مزید پڑھیے

ہم اپنی ساری خواہش ہر تمنا چھوڑ دیتے ہیں (ردیف .. ے)

ہم اپنی ساری خواہش ہر تمنا چھوڑ دیتے ہیں تمہیں پانے کو ہم ہر روز کیا کیا چھوڑ دیتے ہیں میں جب بھی سیاہ راتوں میں تمہارا نام لیتا ہوں تمہاری یاد کے جگنو اجالا چھوڑ دیتے ہیں یہ تنہائی ہمیں اک روز تنہا کر کے مانے گی چلو تنہائیوں کو ہم ہی تنہا چھوڑ دیتے ہیں ہمیں اپنی زمیں کا ہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 804 سے 4657