شاعری

دل ٹوٹ چکا تار نظر ٹوٹ رہا ہے

دل ٹوٹ چکا تار نظر ٹوٹ رہا ہے قسطوں میں مسافر کا سفر ٹوٹ رہا ہے ہر روز بدلتا ہے نیا رنگ زمانہ ہر شخص بہ انداز دگر ٹوٹ رہا ہے تو غور سے دیکھے تو یہ معلوم ہو تجھ کو جو کچھ ہے ترے پیش نظر ٹوٹ رہا ہے کیا جانئے کیوں لوگ تشدد پہ اتر آئے دستار بچاتے ہیں تو سر ٹوٹ رہا ہے منزل ہے کہ اوجھل ...

مزید پڑھیے

اک کار گراں ہے کھیل نہیں

اک کار گراں ہے کھیل نہیں زندگی امتحاں ہے کھیل نہیں ہر قدم سوچ کر یہاں رکھنا دشت‌ عمر رواں ہے کھیل نہیں یہ مٹی ہے نہ مٹ سکے گی کبھی اردوئے سخت جاں ہے کھیل نہیں تیرگی شب کی کیوں نہ دم توڑے زخم دل ضو فشاں ہے کھیل نہیں کچھ بھی ممکن ہے دیکھیے کیا ہو لطف چارہ گراں ہے کھیل نہیں جانے ...

مزید پڑھیے

شب فراق کا مارا ہوں دل گرفتہ ہوں

شب فراق کا مارا ہوں دل گرفتہ ہوں چراغ تیرہ شبی ہوں میں جلتا رہتا ہوں کبھی کا مار دیا ہوتا زندگی نے مجھے یہ شکر ہے کہ میں زندہ دلی سے زندہ ہوں کوئی فریب تمنا نہ جلوہ اور نہ خیال دیار عشق میں تنہا تھا اور تنہا ہوں زمانہ میری ہنسی کو خوشی سمجھتا ہے میں مسکرا کے جو خود کو فریب دیتا ...

مزید پڑھیے

جیسے صبح کو سورج نکلے شام ڈھلے چھپ جائے ہے

جیسے صبح کو سورج نکلے شام ڈھلے چھپ جائے ہے تم بھی مسافر میں بھی مسافر دنیا ایک سرائے ہے راز خودی ہے یہ فرزانو بہتر ہے یہ راز نہ جانو جو خود کو پہچانے ہے وہ دیوانہ کہلائے ہے فہم و خرد سے جوش جنوں تک ہر منزل سے گزرے ہیں ہم تو دیوانے ہیں بھائی ہم کو کیا سمجھائے ہے ہجر کی شب یوں تھپک ...

مزید پڑھیے

دیوانگئ شوق کا ساماں سجا کے لا

دیوانگئ شوق کا ساماں سجا کے لا ناداں گہر کوئی سر مژگاں سجا کے لا فن کار تو اگر ہے تو فن کا دکھا کمال تصویر یار تا حد امکاں سجا کے لا گلشن پہ ہے خزاں کا تسلط تو غم نہیں دل میں فریب حسن بہاراں سجا کے لا دے ماہتاب بن کے اندھیروں کو روشنی مردہ دلوں کے واسطے درماں سجا کے لا ہم آج ...

مزید پڑھیے

برنجی پاؤں میں اس کے چبھی ہے

برنجی پاؤں میں اس کے چبھی ہے بچارے موچی کو گالی پڑی ہے دھماکا دل میں ہونے والا ہے کیا کئی دن سے یہاں کچھ سنسنی ہے مجھے لگتا ہے شعلہ کی حرارت اندھیرے میں دھویں کو تک رہی ہے یہیں سے پڑھتے جا استغفر اللہ یہاں سے دور کچھ اس کی گلی ہے یہ کٹنی مول میں کرتی ہے گڑبڑ طوائف قول کی بالکل ...

مزید پڑھیے

پہلے باتیں پیاری پیاری کرتا ہے

پہلے باتیں پیاری پیاری کرتا ہے پھر وہ دلوں پر دہشت طاری کرتا ہے میں اس کی ہر چال سے واقف ہوں لیکن بعض اوقات یہ دل غداری کرتا ہے دل میں بھلے اس فتنے کے کھوٹ بھرا ہے باتوں سے لیکن دل داری کرتا ہے میں بھی نا شائستہ حرکت کرتا ہوں اور وہ بھی باتیں بازاری کرتا ہے میرا بھی کوئی دین و ...

مزید پڑھیے

زندگی چونچلے نہ کر ہم سے

زندگی چونچلے نہ کر ہم سے دیکھ پچھتائے گی تو ڈر ہم سے زخم خردوں کے جانے سے پیدا ہو گیا ہے خلا تو بھر ہم سے لوگ سرہانوں میں اڑسنے لگے پوچھ مت حال بال و پر ہم سے گر گئی روشنائی کی بوتل تیرا کاغذ ہوا ہے تر ہم سے ایک دن ہانکا تھا پرندے کو ابھی ناراض ہے شجر ہم سے رب رقیبوں کو بخشے تو ...

مزید پڑھیے

اب اس قدر بھی بدل جائے گا خبر نہیں تھی

اب اس قدر بھی بدل جائے گا خبر نہیں تھی فنا سے دور نکل جائے گا خبر نہیں تھی مرے بدن کی حرارت اتارنے والا مری تپش سے پگھل جائے گا خبر نہیں تھی وہ ابتدائے محبت کے پہلے لمحے کو بنا کے آخری پل جائے گا خبر نہیں تھی بڑھے گی لقمۂ دل سے بھی آگے اس کی ہوس یہ نفس تن کو نگل جائے گا خبر نہیں ...

مزید پڑھیے

میں نے دھڑکن سنی شجر کی رات

میں نے دھڑکن سنی شجر کی رات نیند پتوں نے بے خطر کی رات اس نے رخصت کبھی نہ لینی تھی وہ بھی مارا گیا سفر کی رات بھونکتی رہتی ہے ستاروں پر میرے اندر کسی کھنڈر کی رات میں نے دیوانگی میں پھاڑے ہوئے خیمۂ خاک میں بسر کی رات دن تو لیکن کا ڈھل گیا صاحب سامنے ہے اگر مگر کی رات میں ہوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 802 سے 4657