شاعری

بہار آنے سے پہلے شجر میں پھول کھلے

بہار آنے سے پہلے شجر میں پھول کھلے مثال خار خزاں کی نظر میں پھول کھلے اب ان کا حسن کوئی کیسے دیکھنے آئے اگے ہیں راہ میں کانٹے جو گھر میں پھول کھلے نظارہ دیکھنے آ پہنچے لوگ ساحل پر کسی نے کہہ دیا ان سے بھنور میں پھول کھلے کس اہتمام سے منزل پہ مجھ کو پہنچایا حضر میں خار اگے اور ...

مزید پڑھیے

ہزار قصے سناتا رہا گلاس کا رنگ

ہزار قصے سناتا رہا گلاس کا رنگ مٹا سکا نہ مگر میرے لب سے پیاس کا رنگ در یقیں پہ مسلسل گماں کی دستک ہے ابھر نہ جائے کہیں ایک دن قیاس کا رنگ اثر کو چاہئے کچھ اور عاجزی شاید مری دعاؤں میں شامل ہے التماس کا رنگ چمن میں زرد رتوں کے نقوش روشن ہیں چمک رہا ہے مگر کیاریوں میں گھاس کا ...

مزید پڑھیے

نہ ہو جب خون تو دل کیوں جگر کیوں

نہ ہو جب خون تو دل کیوں جگر کیوں الٰہی خشک ندیوں میں بھنور کیوں جو پردے میں بھی تجھ کو دیکھتا تھا ہوا معدوم وہ حسن نظر کیوں وہ حرف شوق جو کل معتبر تھا وہی اب ہو گیا نا معتبر کیوں نہیں منزل کا جب کوئی بھروسا ابھی تک معتبر ہے رہ گزر کیوں مزاج شانؔ تو شبنم صفت ہے کئے جاتا ہے شعلوں ...

مزید پڑھیے

کہیں ملا نہ کوئی ہم نوا سلیقے سے

کہیں ملا نہ کوئی ہم نوا سلیقے سے اگرچہ دیتا رہا میں صدا سلیقے سے ملی ہے داد مجھے اپنی سخت جانی کی گزر گیا ہے ہر اک حادثہ سلیقے سے دعائیں دیتا ہوں اب تک میں ان کے جلووں کو جنہوں نے آنکھوں کو بخشی سزا سلیقے سے بوقت نزع تبسم تھا میرے ہونٹوں پر یوں میرے سامنے آئی قضا سلیقے سے لگا ...

مزید پڑھیے

بہت دشوار رستہ ہو گیا ہے

بہت دشوار رستہ ہو گیا ہے سفر اب جستہ جستہ ہو گیا ہے انا جھکنے نہیں دیتی تھی جس کو وہی اب دست بستہ ہو گیا ہے تمہارا چاہنے والا ہوں میں بھی مرا دل بھی شکستہ ہو گیا کہاں لے آئی ہے بونوں کی صحبت ہمارا قد بھی پستہ ہو گیا ہے کبھی وہ صاحب اسلوب ہوگا جو اب لہجے سے خستہ ہو گیا ہے جناب ...

مزید پڑھیے

دامن کی پناہوں سے مکر کیوں نہیں جاتے

دامن کی پناہوں سے مکر کیوں نہیں جاتے آنسو مری پلکوں پہ ٹھہر کیوں نہیں جاتے ہم لوگ ازل سے ہیں اسیر شب ظلمت تم چاند ہو تو چاند نگر کیوں نہیں جاتے بچوں کے مسائل ہیں مہاجن کے تقاضے یہ ہم ہی سمجھتے ہیں کہ گھر کیوں نہیں جاتے کیوں کرتے ہو اقرار بھی انکار کی صورت اوروں کی طرح صاف مکر ...

مزید پڑھیے

دل میرا فقط تیرے نشانے کے لئے ہے

دل میرا فقط تیرے نشانے کے لئے ہے اور اس کے سوا جو ہے زمانے کے لئے ہے ہنسنے کے لئے ہے نہ ہنسانے کے لئے ہے یہ انجمن ناز جلانے کے لئے ہے ہر شخص کی آنکھوں میں مسائل کے ہیں آنسو ہونٹوں پہ ہنسی صرف دکھانے کے لئے ہے اس کا کبھی مثبت کوئی پہلو نہیں نکلا جو تم سے تعلق ہے نبھانے کے لئے ...

مزید پڑھیے

فتنۂ شمس و قمر سے نکلے

فتنۂ شمس و قمر سے نکلے حلقۂ شام و سحر سے نکلے کیا کہیں کتنے شرر کتنے گل میرے دامان ہنر سے نکلے ہاتھ اٹھانے کی ضرورت نہ رہی ہم دعاؤں کے اثر سے نکلے کتنے طوفان رہے دل میں نہاں کتنے انداز نظر سے نکلے وہ بھی آنگن میں کھڑا کانپتا تھا ہم بھی سہمے ہوئے گھر سے نکلے سامنے برف کی دیوار ...

مزید پڑھیے

بلا سے گر رہے یہ ناشنیدہ

بلا سے گر رہے یہ ناشنیدہ مری مانو لکھو اپنا قصیدہ شب غم کاٹنے والوں سے پوچھو ہے کتنی شوخ صبح نودمیدہ کرو گے تم اسے نذر جنوں کیا قبائے زندگی خود ہے دریدہ سنبھلنا اور بھی دشوار ہوگا مجھے کہتی ہے دنیا برگزیدہ

مزید پڑھیے

یہ جن پر چل رہے ہیں اہل جادہ

یہ جن پر چل رہے ہیں اہل جادہ ہے میرے نقش پا سے استفادہ تمہاری جیب میں لطف یقیں ہے مرے کشکول میں ہے صرف وعدہ وہ چاہے جب ہمیں اذن سفر دے کئے بیٹھے ہیں ہم پکا ارادہ اجازت ہو تو تیرا نام لکھ دوں کتاب دل کا اک صفحہ ہے سادہ غزل خواں ہو رہا ہے وہ کہ جو ہے غزل کی سلطنت کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 637 سے 4657