شاعری

رہین دست آذر ہو گیا ہوں

رہین دست آذر ہو گیا ہوں میں آئینہ تھا پتھر ہو گیا ہوں مرا تو کام قطرے سے بھی چلتا تری خاطر سمندر ہو گیا ہوں جو باطن ہے وہی ظاہر ہے میرا کچھ ایسا صاف منظر ہو گیا ہوں کئی جہتوں سے ہے یلغار مجھ پر تن تنہا میں لشکر ہو گیا ہوں چلے ہیں ساتھ ہی گھر کے مسائل کبھی جب گھر سے باہر ہو گیا ...

مزید پڑھیے

منافقت کا ہر امکان ڈھا کے نکلے تھے

منافقت کا ہر امکان ڈھا کے نکلے تھے جو گھر کی آگ سے دامن بچا کے نکلے تھے لہولہان ہوئے یوں کہ کھو گئی پہچان ہم اپنے چہرے پہ وعدے سجا کے نکلے تھے نگاہ اہل ہوس کس لئے ہوئی خاموش کچھ آستین میں ہم بھی چھپا کے نکلے تھے خدا ہی جانے جبینوں پہ نور سا کیوں تھا وہ کون تھے جو گھر اپنا لٹا کے ...

مزید پڑھیے

میں حد لا مکانی چاہتا ہوں

میں حد لا مکانی چاہتا ہوں یہ کیسی سرگرانی چاہتا ہوں تری آنکھوں میں پانی چاہتا ہوں بس اتنی مہربانی چاہتا ہوں جسے سنتے ہی سو جاتے تھے بچے وہی بھولی کہانی چاہتا ہوں یہ ہے میری طبیعت کا تقاضا ہر اک پل امتحانی چاہتا ہوں نہیں لگتا مرا اب شہر میں جی حقیقت داستانی چاہتا ہوں کئی ...

مزید پڑھیے

ہے جھلک اس میں استعارے کی

ہے جھلک اس میں استعارے کی شکل پہچانئے ستارے کی نام آتا ہے بار بار مرا بات چلتی ہے جب خسارے کی ساتھ سورج کے ڈوب جاتا ہے ہائے رے بے بسی نظارے کی کتنی بیساکھیاں تھیں میرے لئے جب ضرورت نہ تھی سہارے کی اب ہوا میرا سر جدا تن سے اک ذرا دیر تھی اشارے کی کیا یہ ممکن نہیں کہ طوفاں ...

مزید پڑھیے

دھرتی سے آکاش میں چھانے والی تو

دھرتی سے آکاش میں چھانے والی تو دریاؤں کی پیاس بجھانے والی تو میں خواہش کی برف پگھلنے کا منظر میرے بدن میں آگ لگانے والی تو دن بھر سورج آنکھ میں بھرنے والا میں شب بھر رنگیں خواب سجانے والی تو میں تقدیر کا مارا اپنے حال پہ خوش تدبیروں سے کام چلانے والی تو صحرا صحرا دھوم مچانے ...

مزید پڑھیے

یہ اور بات کہ اس سے ہے واسطہ دل کا

یہ اور بات کہ اس سے ہے واسطہ دل کا جو آ گیا تو عجب حال ہو گیا دل کا جو چاہے دیکھنا دیکھے وہ باطنی تصویر اٹھائے ہاتھ میں پھرتا ہوں آئنہ دل کا سکوں ملے تو فسردہ ہو اضطراب تو خوش سمجھ سکا نہ کوئی بھی معاملہ دل کا اب آخر ایسے مسافر کو کیا کہا جائے جو پوچھتا ہے ہر اک گام فیصلہ دل ...

مزید پڑھیے

کون ہوں کیا ہوں بتاتی نہیں صورت میری

کون ہوں کیا ہوں بتاتی نہیں صورت میری آئنے میں بھی ہے روپوش حقیقت میری برف سی یوں تو جمی رہتی ہے ہونٹوں پہ مگر شعلہ بن جاتی ہے آنکھوں میں صداقت میری دستکیں شور میں تبدیل ہوں اس سے پہلے کاش لے جائے کوئی مجھ سے سماعت میری یہ بھی موسم کا تقاضا ہے کہ غنچہ کی طرح ہر نئی شاخ پہ کھل ...

مزید پڑھیے

بہت کم بولنا اب کر دیا ہے

بہت کم بولنا اب کر دیا ہے کئی موقعوں پہ غصہ بھی پیا ہے تم ہم سے پوچھتے ہو کیا کہ ہم نے بہت سا کام نظروں سے لیا ہے بہت گرمی پڑی اب کے برس بھی مئی اور جون مشکل میں جیا ہے رفو آنچل پہ تیرے ہے تو سن لے گریباں چاک ہم نے بھی سیا ہے تمہاری گفتگو بتلا رہی ہے کسی سے عشق تم نے بھی کیا ...

مزید پڑھیے

ایک آسیب کا سایہ تھا جو سر سے اترا

ایک آسیب کا سایہ تھا جو سر سے اترا جیسے اک طائر منحوس شجر سے اترا یوں لگا جیسے گرانباریٔ شب ختم ہوئی غازۂ کذب و ریا روئے سحر سے اترا اپنا گھر بھی مجھے زنداں کی طرح لگتا تھا زنگ آلود سا تالا مرے در سے اترا شاید اب تلخ حقائق سے شناسائی ہو کور چشمی کا یہ پردہ سا نظر سے اترا غم کا ...

مزید پڑھیے

جو رخ پہ ڈالے ہوئے وہ نقاب نکلے گا

جو رخ پہ ڈالے ہوئے وہ نقاب نکلے گا اک انقلاب پس انقلاب نکلے گا ابھی تک اوڑھے ہوئے ہوں میں برف کی چادر ہے انتظار ابھی آفتاب نکلے گا سفر کے ساتھ شعور سفر ضروری ہے قدم قدم پہ نیا اک سراب نکلے گا چبھن جو ہوتی ہے تم کو تو دیکھنا اک دن ہر ایک لفظ ہمارا گلاب نکلے گا اگر تلاش کرو گے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 638 سے 4657