شاعری

کوئی کافر ہمیں سمجھے کہ مسلماں سمجھے

کوئی کافر ہمیں سمجھے کہ مسلماں سمجھے ہم تو اے عشق تجھے حاصل ایماں سمجھے لاکھوں مسلے ہوئے غنچے نہیں دیکھے ہم نے چند ہنستے ہوئے پھولوں کو گلستاں سمجھے خود بہ خود وقت پہ ہو جاتے ہیں ساماں کیونکر کچھ جو سمجھے تو ہمیں بے سر و ساماں سمجھے دعوت عام ہے اک راہ وفا ہے میں ہوں وہ مرے ...

مزید پڑھیے

گلشن میں بڑے زور کا طوفان اٹھا ہے

گلشن میں بڑے زور کا طوفان اٹھا ہے جب بھی کوئی پھولوں کا نگہبان اٹھا ہے دنیا کے بدلنے کا فرشتے نہیں آئے جب جب بھی اٹھا ہے کوئی انسان اٹھا ہے سینے کے لئے دامن گل فصل خزاں میں ہر بار کوئی چاک گریباں اٹھا ہے میں اس کے سوا کچھ نہیں کہتا مرے ساقی شاربؔ تری محفل سے پشیمان اٹھا ہے

مزید پڑھیے

ہمارے عزم سفر کے آگے سوال لیل و نہار کیا ہے

ہمارے عزم سفر کے آگے سوال لیل و نہار کیا ہے غم محبت اٹھا لیا ہے تو گردش روزگار کیا ہے امید فردا پہ جینے والو حیات کا اعتبار کیا ہے اٹھو کہ منزل بلا رہی ہے چلو کہ اب انتظار کیا ہے بکھرتے پھولوں نہ ہم سے پوچھو ہمیں تو اب یاد ہی نہیں ہے چلو یہ اہل چمن سے پوچھیں سکون کیا ہے قرار کیا ...

مزید پڑھیے

اگر ان بازووں میں دم نہیں ہے

اگر ان بازووں میں دم نہیں ہے تو گلشن بھی قفس سے کم نہیں ہے مرے ساز جنوں کے چھیڑنے کو کلی کا اک تبسم کم نہیں ہے مجھے دنیا مرے عالم میں دیکھے ہر اک عالم مرا عالم نہیں ہے نہ دے مجھ کو فریب عشق دنیا فریب زندگی کچھ کم نہیں ہے غم توہین مے خانہ ہے شاربؔ مجھے تشنہ لبی کا غم نہیں ہے

مزید پڑھیے

خدا ہی جانے یہ کار ثواب کیسے ہوا

خدا ہی جانے یہ کار ثواب کیسے ہوا وہ اپنی ذات میں شعلہ تھا آب کیسے ہوا تمہارے گھر سے ہی منسوب تھا پتہ جس کا تمہیں بتاؤ وہ خانہ خراب کیسے ہوا ہر ایک کام تھا اس کا ثواب میں داخل پھر ایسے بندے پہ نازل عذاب کیسے ہوا جواب اس کا اندھیروں سے پوچھنا ہوگا جو کل تھا زرد وہ آج آفتاب کیسے ...

مزید پڑھیے

کیا خبر تھی وہ متاع بے بہا لے جائے گا

کیا خبر تھی وہ متاع بے بہا لے جائے گا چھین کر آنکھوں سے خوابوں کی ردا لے جائے گا میں کف افسوس ہی ملتا رہوں گا عمر بھر وہ مری غیرت کی دستار و قبا لے جائے گا کیا خبر تھی اس طرح بدلے گا فطرت کا نظام وقت کے گلشن سے غنچوں کی صدا لے جائے گا پار کرنا ہے اسے دریا مگر یہ دیکھنا کہہ رہا ہے ...

مزید پڑھیے

سیپی ہیں سب کے پاس گہر کس کے پاس ہے

سیپی ہیں سب کے پاس گہر کس کے پاس ہے جو میرے پاس ہے وہ ہنر کس کے پاس ہے چہرے پہ خاک آنکھ میں موتی لبوں پہ آہ اس قاعدے کا رخت سفر کس کے پاس ہے صحرا نورد پوچھتا پھرتا ہے شہر شہر جو دے سکے پناہ وہ گھر کس کے پاس ہے لب پر تو ہیں دعائیں مگر اے دل حزیں تو خوب جانتا ہے اثر کس کے پاس ...

مزید پڑھیے

اسی امید پر ہم شہر سے باہر نکل آئے

اسی امید پر ہم شہر سے باہر نکل آئے کہ اس سے غالباً صورت کوئی بہتر نکل آئے ہر اک منظر سے بالآخر کئی منظر نکل آئے ہمارے حوصلوں کے جب سے بال و پر نکل آئے ہماری سچی باتوں کا کوئی حامی نہیں ٹھہرا تمہاری جھوٹ کی تصدیق میں لشکر نکل آئے خوشی کا بھی بھرم رکھا نہ اشکوں نے سر محفل توقع تو ...

مزید پڑھیے

سفر کا لطف مسلسل سفر کے بعد آیا

سفر کا لطف مسلسل سفر کے بعد آیا یہ سنگ میل مری رہ گزر کے بعد آیا لہو جلاتا رہا میں چراغ فن کے لئے ہنر میں حسن ریاض ہنر کے بعد آیا امید جشن چراغاں متاع تیرہ شبی شعور اس کو شکست ہنر کے بعد آیا امیدوار تھے دستار عافیت کے سبھی جنوں کو ہوش مگر میرے سر کے بعد آیا کسے ہے تاب کے دیکھے ...

مزید پڑھیے

تبسم لب پر آنکھوں میں نمی ہے

تبسم لب پر آنکھوں میں نمی ہے خدا جانے یہ غم ہے یا خوشی ہے جو منزل آج اہل ہوش کی ہے وہ دیوانوں کی ٹھکرائی ہوئی ہے کہاں جائے تھکا ماندہ مسافر تو ہی سایہ تو ہی دیوار بھی ہے ہزاروں ہیں سکون دل کے ساماں یہ دنیا پھر بھی گھبرائی ہوئی ہے اندھیرے چھو نہیں سکتے ہیں مجھ کو کہ میرے ساتھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 636 سے 4657