شاعری

کسی تمنا کسی دعا میں اثر نہیں ہے

کسی تمنا کسی دعا میں اثر نہیں ہے خدا یقیناً ہے وہ ہمارا مگر نہیں ہے عدو ہی مل جائے فی‌ زمانہ کوئی مصمم رفیق تو خیر کوئی بھی معتبر نہیں ہے یہ مسئلہ اور ہے کہ چپ ہیں زباں داں سب معاملہ یہ نہیں کوئی باخبر نہیں ہے وہی ہے کیفیت اسیری محیط اگرچہ کھلی ہے زنجیر بند زنداں کا در نہیں ...

مزید پڑھیے

دوست کو محرم بنا کر دشمن جاں کر دیا

دوست کو محرم بنا کر دشمن جاں کر دیا تو نے اے دل آپ بربادی کا ساماں کر دیا لغزش آدم تو ہم تک آئی ہے میراث میں دیوتا ہوتے اسی خوبی نے انساں کر دیا راز کو جتنا چھپایا اور افشا ہو گیا تیرا چہرہ اور آنچل نے نمایاں کر دیا مہرباں نے غم غلط کرنے کی رکھی یہ سبیل جب پڑا ہے قحط مے تو زہر ...

مزید پڑھیے

کیسے گزر رہے ہیں یہ دن رات کیا کہیں

کیسے گزر رہے ہیں یہ دن رات کیا کہیں مجھ سے چھپے ہوئے نہیں حالات کیا کہیں سب چشمہ ہائے چشم بہے پھوٹ پھوٹ کے جس طرح اب کے برسی ہے برسات کیا کہیں کیا حادثہ تھا ہجر رفیقاں بتائیں کیا کیا سانحہ تھا ان سے ملاقات کیا کہیں تم جان لو حبیب جو محسوس کر سکو کہنے کی بھی نہیں ہے ہر اک بات کیا ...

مزید پڑھیے

جھانک کر ذات کے اندر یہ تماشا دیکھو

جھانک کر ذات کے اندر یہ تماشا دیکھو شہر صحرا میں کبھی شہر میں صحرا دیکھو بہتے دریا میں نظر آئے ہر اک بوند الگ یہ نہیں معجزہ گر بوند میں دریا دیکھو صوفیو معرفت اہل صفا تو یہ ہے کبھی انسان میں انساں کا سراپا دیکھو قرمزی رنگ لہو سے ہے پسینہ میرا اور ارباب ہوس رنگ تمنا دیکھو عمر ...

مزید پڑھیے

اجڑے ہوئے دل میں بھی ترا دھیان رہا ہے

اجڑے ہوئے دل میں بھی ترا دھیان رہا ہے شہروں سے بھی آباد بیابان رہا ہے ہم نے تجھے سو رنج میں چھوڑا تھا مگر دوست دل ترک تعلق پہ پشیمان رہا ہے شاید یہ کسی تازہ مصیبت کے ہے در پے کچھ روز سے دل میرا کہاں مان رہا ہے ڈھونڈا جسے تا عمر کہیں وہ تو نہیں تم ٹھہرو تو سہی دل تمہیں پہچان رہا ...

مزید پڑھیے

جس کی رہی تلاش ہمیشہ وہ تو نہ ہو

جس کی رہی تلاش ہمیشہ وہ تو نہ ہو ممکن ہے تو ملے تو کوئی جستجو نہ ہو تو ہی بتا یہ عشق کا ہے کون سا مقام دل کو یہ آرزو ہے تری آرزو نہ ہو حسن تہی وفا کبھی اس پھول کو بھی دیکھ جس میں جمال رنگ تو ہو اور بو نہ ہو یوں ہے کسی کی کیفیت چشم کی ہوس جیسے کہیں شراب نہیں یا سبو نہ ہو اے دوست میرے ...

مزید پڑھیے

کسی کی چشم سادہ یاد آئی

کسی کی چشم سادہ یاد آئی حریف جام و بادہ یاد آئی ہوئی ہر عافیت مدفون جس میں وہ دیوار فتادہ یاد آئی سواد دیر و کعبہ میں پہنچ کر تری محفل زیادہ یاد آئی کسی کو بے تمنا بھول بیٹھے کسی کی بے ارادہ یاد آئی زمانے سے ہوا دل تنگ جب بھی وہ آغوش کشادہ یاد آئی کبھی تجھ کو بھی اے صحبت ...

مزید پڑھیے

تھی جو انہونی اسی بات کو کرتے دیکھا

تھی جو انہونی اسی بات کو کرتے دیکھا جیتے جی دل کو کئی مرتبہ مرتے دیکھا وقت کو رنج میں ٹھہرا ہوا پایا ہم نے برق پا گر اسے راحت میں گزرتے دیکھا رو کے جی ہو گیا ہلکا تو دمک اٹھا منہ پھول کو اوس کی بوندوں سے نکھرتے دیکھا پیار ہی پیار میں جو زخم لگایا تھا کبھی تازہ کچھ اور اگا جب اسے ...

مزید پڑھیے

غم میں خوشی خوشی میں کبھی غم بدل گئے

غم میں خوشی خوشی میں کبھی غم بدل گئے باہم خواص شعلہ و شبنم بدل گئے اے عمر رائیگاں نہ کھلا غنچۂ مراد پلٹی کئی رتیں کئی موسم بدل گئے دیرینہ طبع لوگ ہیں ہم تو روایتاً بدلے بہت زیادہ اگر کم بدل گئے تیری نگاہ ہی نہ مری جاں بدل گئی محسوس ہو رہا ہے دو عالم بدل گئے دشمن تھے وضع دار تھے ...

مزید پڑھیے

تم پلاؤ یہ کم غنیمت ہے

تم پلاؤ یہ کم غنیمت ہے مے نئی ہے تو سم غنیمت ہے ہے خوشی کی بھی کیفیت معلوم ہو میسر تو غم غنیمت ہے تم نہ آئے سحر تو آ ہی گئی دم بہ دم دم بہ دم غنیمت ہے اس میں سنگ گراں بھی ملتے ہیں راہ کا پیچ و خم غنیمت ہے رات دن آسماں ہیں چکر میں مل جو بیٹھیں بہم غنیمت ہے زندگانی کا اعتبار ...

مزید پڑھیے
صفحہ 599 سے 4657