شاعری

ہم عزیز اس قدر اب جی کا زیاں رکھتے ہیں

ہم عزیز اس قدر اب جی کا زیاں رکھتے ہیں دوست بھی رکھتے ہیں تو دشمن جاں رکھتے ہیں طبعاً انسان تو دل دادۂ فصل گل ہے ہم عجب لوگ ہیں جو ذوق خزاں رکھتے ہیں عارض گل ہو لب یار ہو جام مے ہو جسم جل اٹھتا ہے ہم ہونٹ جہاں رکھتے ہیں واقعہ یہ بھی ہے حق بات نہیں کہہ سکتے یہ بھی دعویٰ ہے بجا منہ ...

مزید پڑھیے

نظر نواز وہ پہلی سی ہستیاں نہ رہیں

نظر نواز وہ پہلی سی ہستیاں نہ رہیں روا ہمارے لیے بت پرستیاں نہ رہیں فضا ہی وہ نہیں دیہات اور شہروں کی بسائی تھیں جو کبھی اب وہ بستیاں نہ رہیں تری نگاہ سے پینے کی آرزو کی تھی پھر اس کے بعد شرابوں میں مستیاں نہ رہیں یہ اور بات ترا دل نہ ہو سکا شاداب وگرنہ آنکھیں مری کب برستیاں نہ ...

مزید پڑھیے

بھولتے جاتے ہیں یادوں میں سمانے والے

بھولتے جاتے ہیں یادوں میں سمانے والے جیسے اب واقعی رخصت ہوئے جانے والے سائے کے واسطے تعمیر کریں گے پھر لوگ دھوپ کے واسطے دیوار گرانے والے رائیگاں عہد پس عہد گئی قربانی خوں بہا لے گئے خود خون بہانے والے وقت کو ساتھ لیے آئے یہاں تک ہم ہی ہو گئے لوگ ہمیں اگلے زمانے والے یہ جہاں ...

مزید پڑھیے

گرد رہ کارواں رہے ہیں

گرد رہ کارواں رہے ہیں ہم منزلوں کے نشاں رہے ہیں کچھ ہم بھی رہے ہیں اپنے دشمن کچھ آپ بھی مہرباں رہے ہیں کشتی ہی نہ لگ سکی کنارے دریا تو بہت رواں رہے ہیں جب تم ہمیں یاد آ گئے ہو اے دوست تو ہم کہاں رہے ہیں معلوم ہوا کہ جان جاں تک حائل ہمیں درمیاں رہے ہیں اب یوں نہ یہ بستیاں ...

مزید پڑھیے

آئے کیا آپ کی پناہ میں ہم

آئے کیا آپ کی پناہ میں ہم گھر میں محفوظ ہیں نہ راہ میں ہم ہاں وہی طمطراق کا رشتہ دیکھتے ہیں سر و کلاہ میں ہم اور بھی مورد ثواب ہوئے مبتلا جب سے ہیں گناہ میں ہم مدعی تھے ہزار خوبی کے پر نہ آئے کسی نگاہ میں ہم علم سے مدرسے میں شوکتؔ دور اور عرفاں سے خانقاہ میں ہم

مزید پڑھیے

جسم کو جاں کا سرا پردۂ رعنائی کر

جسم کو جاں کا سرا پردۂ رعنائی کر سائے کو دھوپ میں پھیلا کے نہ ہرجائی کر فکر کو ذہن کی دیوار پہ تصویر بنا آنکھ کو مدح سرا دل کو تماشائی کر ہیں تری ذات میں بھی بو قلموں ہنگامے تو اسے صرف تماشہ گہۂ تنہائی کر شہر اور شہر ترا نام نکلتا جائے اے ستم گر مری بھی کھول کے رسوائی کر عین ...

مزید پڑھیے

دوست کو محرم بنا کر دشمن جاں کر دیا

دوست کو محرم بنا کر دشمن جاں کر دیا تو نے اے دل آپ بربادی کا ساماں کر دیا لغزش آدم تو ہم تک آئی ہے میراث میں تھے فرشتے لیکن اس خوبی نے انساں کر دیا مہرباں نے غم غلط کرنے کی رکھی ہے سبیل جب پڑا ہے قحط مے تو زہر ارزاں کر دیا کیسے کیسے عزم ہو کر رہ گئے منزل کی نذر کیسی کیسی خواہشوں ...

مزید پڑھیے

جو کچھ ہوا خبر ہے اسی کی رضا سے ہے

جو کچھ ہوا خبر ہے اسی کی رضا سے ہے ہم کو گلہ کسی سے نہیں ہے خدا سے ہے جنت میں مطمئن نہ جہنم میں مضطرب پروردہ دل زمین کی آب و ہوا سے ہے دشمن ہے آدمی کا ازل سے خود آدمی یعنی مقابلہ یہ بلا کا بلا سے ہے ہر غیر سے تو خوب گزارہ کیا مگر اے دل معاملہ ترا اب آشنا سے ہے ہے ذوق کا جمال سے آگے ...

مزید پڑھیے

جنوں سکون خرد اضطراب چاہتی ہے

جنوں سکون خرد اضطراب چاہتی ہے طبیعت آج نیا انقلاب چاہتی ہے نہ آج تیری نظر سے برس رہا ہے نشہ نہ میری تشنہ لبی ہی شراب چاہتی ہے نہیں سرور مسلسل نباہ پر موقوف مدام آنکھ کہاں لطف خواب چاہتی ہے سنا رہا ہوں فسانہ تری محبت کا یہ کائنات عمل کا حساب چاہتی ہے وہ عزم ہائے سفر لا زوال ...

مزید پڑھیے

عجیب بات ہے دن بھر کے اہتمام کے بعد

عجیب بات ہے دن بھر کے اہتمام کے بعد چراغ ایک بھی روشن ہوا نہ شام کے بعد سناؤں میں کسے روداد شہر نا پرساں کہ اجنبی ہوں یہاں مدتوں قیام کے بعد خرد علیل تھی دور شراب سے پہلے قدم میں آئی تھی لغزش شکست جام کے بعد ستم ظریفیٔ تاریخ ہے کہ مسند گیر سدا خواص ہوئے انقلاب عام کے بعد حباب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 600 سے 4657