ہم عزیز اس قدر اب جی کا زیاں رکھتے ہیں
ہم عزیز اس قدر اب جی کا زیاں رکھتے ہیں دوست بھی رکھتے ہیں تو دشمن جاں رکھتے ہیں طبعاً انسان تو دل دادۂ فصل گل ہے ہم عجب لوگ ہیں جو ذوق خزاں رکھتے ہیں عارض گل ہو لب یار ہو جام مے ہو جسم جل اٹھتا ہے ہم ہونٹ جہاں رکھتے ہیں واقعہ یہ بھی ہے حق بات نہیں کہہ سکتے یہ بھی دعویٰ ہے بجا منہ ...