شاعری

گل کو بو بلبل کو نغمہ چاہئے

گل کو بو بلبل کو نغمہ چاہئے اے دل مضطر تجھے کیا چاہئے نیم شب میں ہو طلوع آفتاب اے غم دل ایسا نغمہ چاہئے یہ ستارے قطرۂ شبنم بنیں سوز دل پر درد نالہ چاہئے تو بہت اچھا ہے لیکن اے نگار دل کو کچھ تجھ سے بھی اچھا چاہئے میری ہستی کو عنایت کی نظر خرمن دہقاں کو شعلہ چاہئے رمز الفت ہے ...

مزید پڑھیے

نہ شرط کوئی ہے اپنی نہ کوئی سودا ہے

نہ شرط کوئی ہے اپنی نہ کوئی سودا ہے ہمارے ساتھ اگر تم چلو تو اچھا ہے لگی ہے آگ کہیں یا چراغ جلتے ہیں یہاں سے دور جو دیکھیں تو کچھ اجالا ہے ہمارے حال پہ آنسو ہیں اس کی آنکھوں میں مگر خیال سا ہوتا ہے یہ بھی دھوکا ہے گیا تو صدمہ نہیں تھا گماں بھی توڑ گیا ہمیں گمان یہی تھا کہ وہ ...

مزید پڑھیے

وہ غم مری پلکوں سے نمایاں بھی نہیں ہے

وہ غم مری پلکوں سے نمایاں بھی نہیں ہے یوں جشن ہوا ہے کہ چراغاں بھی نہیں ہے پتھر بھی کوئی مارنے والا نہیں ملتا آئینہ کسی عکس سے حیراں بھی نہیں ہے اک جوش طلب ہے کہ اسے ڈھونڈ رہا ہوں مل جائے گا وہ شخص یہ امکاں بھی نہیں ہے شہروں سے ہوئیں عشق کی بے تابیاں رخصت دیوانگئ دل کو بیاباں ...

مزید پڑھیے

جو سر پر ہے شجر میرا نہیں ہے

جو سر پر ہے شجر میرا نہیں ہے مکیں ہوں اور گھر میرا نہیں ہے کسی کا ہے مگر میرا بھی ہے وہ جو میرا ہے مگر میرا نہیں ہے مقرر جس طرف منزل ہے میری اسی جانب سفر میرا نہیں ہے ہوں لب بستہ کہ تو مجرم نہ ٹھہرے میری جاں یہ مفر میرا نہیں ہے پکاروں کیا اسے گر ہے وہ میرا نہ لوٹے گا اگر میرا ...

مزید پڑھیے

جو بھی حق پر ہو وہی دار و رسن تک پہنچے

جو بھی حق پر ہو وہی دار و رسن تک پہنچے آدمی آج کا یوں رسم کہن تک پہنچے بات ہو گل کی جہاں اس کے لبوں تک آئے ذکر جب سرو کا ہو اس کے بدن تک پہنچے میں نے ٹھانی ہے حفاظت میں کروں گی اس کی ہو جو ہمت تو خزاں میرے چمن تک پہنچے یہ بدن ڈھال بنا لوں گی ہوا کے آگے گرم جھونکا جو کوئی میرے وطن تک ...

مزید پڑھیے

میں کیا مثال دوں کوئی تری مثال کے بعد

میں کیا مثال دوں کوئی تری مثال کے بعد نہیں جمال کوئی بھی ترے جمال کے بعد عطا ہوئی وہ بلندی مرے تخیل کو خیال ہیچ ہوئے سب ترے خیال کے بعد یہ تیرے نام کا صدقہ ہے صاحب معراج عروج مجھ کو ملا ہے جو ہر زوال کے بعد بتایا حلیہ مبارک جو ام معبد نے حسیں لگا نہ کوئی ایسے خد و خال کے بعد نہ ...

مزید پڑھیے

نغمۂ زیست گنگنائے کون

نغمۂ زیست گنگنائے کون آگہی کا عذاب اٹھائے کون دونوں راضی تو ہیں صلح کے لیے پر انا ہے کہ پہلے آئے کون لاکھ دشمن نے مارنا چاہا جس کو رکھے خدا مٹائے کون جی میں آتا ہے اس سے بات کریں بات اپنی مگر بنائے کون اس نے وعدے تو بے شمار کیے اپنے وعدے مگر نبھائے کون دل کی بستی میں کوئی کیا ...

مزید پڑھیے

شکوہ نہ ہو تسلسل آہ و فغاں رہے

شکوہ نہ ہو تسلسل آہ و فغاں رہے وہ چاہتے ہیں آگ نہ بھڑکے دھواں رہے لیل و نہار پہلے جو تھے اب کہاں رہے ہاں یاد ہے کہ تم بھی کبھی مہرباں رہے قربت میں آ پڑے تھے قیامت کے فاصلے تنہا تھے ہم تو قول و قسم درمیاں رہے ہر گام پر ہیں دار و رسن کی سہولتیں اب جسم و جاں لٹاؤ کہ نام و نشاں ...

مزید پڑھیے

زندگی سے ہو مفر ممکن نہیں

زندگی سے ہو مفر ممکن نہیں لاکھ چاہو تم مگر ممکن نہیں دوسروں کے واسطے سایہ تو ہے زیر سایہ ہو شجر ممکن نہیں زندگی میں ایسے وہ شامل ہوا اس کے بن اب یہ سفر ممکن نہیں آگہی ہو اور سکون قلب سے عمر ہو جائے بسر ممکن نہیں عشق سے دامن بچا کر ہی چلو جان سے جانا اگر ممکن نہیں راہ حق میں ...

مزید پڑھیے

کبھی اثر نہ مرے حرف مدعا میں رہا

کبھی اثر نہ مرے حرف مدعا میں رہا نہ اختیار کوئی دست نارسا میں رہا نصیب دختر حوا جفا و جور و ستم شمار حسن و نزاکت میں اور وفا میں رہا امیر شہر کہ تھا زعم اقتدار میں گم غریب شہر سدا جبر ناروا میں رہا اتر گیا رگ و پے میں وہ زہر کی مانند مثال شہد جو اک شخص ابتدا میں رہا میں ہو سکی نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 456 سے 4657