شاعری

میں اس کے وصل سے جاگا تو سلسلہ تھا وہی

میں اس کے وصل سے جاگا تو سلسلہ تھا وہی کہ ہجر اس کا تھا ویسا ہی مرحلہ تھا وہی دکان شیشہ گراں بھی سجائی تھی اس نے تمام شہر میں پتھر بھی بانٹتا تھا وہی مجھے گمان کے سب راستے اسی نے دیے مرے یقیں کے دیے بھی جلا رہا تھا وہی وصال اس کا برتنا تھا ہجر لکھنا بھی کہ تیز دھوپ میں بارش کا ...

مزید پڑھیے

وہ مجھ کو دیکھ نہ پائے میں مستقل دیکھوں (ردیف .. ی)

وہ مجھ کو دیکھ نہ پائے میں مستقل دیکھوں ستارہ جیسے کوئی دور جگمگائے کبھی بنوں میں لہر کبھی اور وہ میرا ساحل ہو میں اس کو ڈھونڈنے جاؤں وہ مجھ کو پائے کبھی غبار راہ کی وحشت ہوا پہ لکھی تھی مگر یہ لوگ وہ تحریر پڑھ نہ پائے کبھی تمہارے شہر سے عزت جنوں کی جاتی ہے گھروں پہ شیشے لگاؤ ...

مزید پڑھیے

تم بھی دیکھو جو ہم نے دیکھا ہے

تم بھی دیکھو جو ہم نے دیکھا ہے شہر میں اک نیا تماشا ہے رقص کرتے ہوئے ہیں لوگ مگر گھنگھرو پتھر کا سب نے باندھا ہے ساری مصروفیت کی وجہ وہی وہی ہر خواب کا حوالہ ہے سب خیالوں کا ایک محور وہ سارے لمحوں کا وہ شناسا ہے اس کو دیکھا تو سوچتا ہی رہا خواب نے واقعہ تراشا ہے مل کے دیکھا تو ...

مزید پڑھیے

زخم کب کا تھا درد اٹھا ہے اب

زخم کب کا تھا درد اٹھا ہے اب اس کے جانے کا دکھ ہوا ہے اب میری آنکھوں میں خواب ہیں جس کے اس کی آنکھوں میں رت جگا ہے اب سنتے آتے ہیں قافلہ دل کا رہ گزر میں کہیں رکا ہے اب وہ جو پتھر کا تھا مسافر وہ شہر افسوں سے آ گیا ہے اب جو مری خواہشوں کی منزل تھی اس کے آنے کا راستہ ہے اب جس کو ...

مزید پڑھیے

ساون رت اور اڑتی پروا تیرے نام

ساون رت اور اڑتی پروا تیرے نام دھوپ نگر سے ہے یہ تحفہ تیرے نام سرخ گلاب کے سارے موسم تیرے لیے خوابوں کا ہر ایک دریچہ تیرے نام چاند کی آنکھیں پھول کی خوشبو بہتی رات قربت کا ہر ایک وسیلہ تیرے نام برف میں پھیلا شام دھندلکا تیرے لیے ہر اک صبح کا پہلا اجالا تیرے نام ہنستی ہوئی سی ...

مزید پڑھیے

اس نے ہر سو ڈھونڈا ہوگا

اس نے ہر سو ڈھونڈا ہوگا کوئی بھلا کیا مجھ سا ہوگا لمحے بھر کے ساتھی تھے ہم لمحہ بھر کو سوچا ہوگا میرا منصب جلنا ہی تھا اب وہ بادل برسا ہوگا خواب نگر کا ساتھی تھا جو خواب نگر میں کھویا ہوگا پہلے پہر میں یاد جو آیا صبح تلک وہ جاگا ہوگا اتنا اس کو چاہا کیوں تھا اک دن خود سے پوچھا ...

مزید پڑھیے

یقین حد سے بڑھا تھا گمان سے پہلے

یقین حد سے بڑھا تھا گمان سے پہلے جبیں پہ زخم سجا تھا نشان سے پہلے اسے بھلانے کے رستے میں کتنی یادیں تھیں شدید دھوپ ملی سائبان سے پہلے پھر اس کے بعد ہواؤں سے جنگ کرتا رہا دیا جلا تھا بڑی آن بان سے پہلے مرے خلاف مقابل نہ تھا منافق تھا جواب ڈھونڈھ رہا تھا بیان سے پہلے نتیجہ اس کے ...

مزید پڑھیے

وہ زمانہ ساز بھی تھا اور وفا پیشہ بھی تھا

وہ زمانہ ساز بھی تھا اور وفا پیشہ بھی تھا میں نے چاہا ہی نہیں اس شخص کو سمجھا بھی تھا تھی تمازت عشق کی اتنی کہ وہ واپس گیا ساتھ چلنے کے لئے کچھ دور تک آیا بھی تھا یہ حقیقت ہی سہی لیکن اسے مانے گا کون لوگ پیاسے بھی رہے اور آنکھ میں دریا بھی تھا اس قدر چاہا اسے جتنا نہیں چاہے ...

مزید پڑھیے

وفا سرشت ہے میری کہا نہ کرتا تھا

وفا سرشت ہے میری کہا نہ کرتا تھا یہ فیصلہ مرے حق میں ہوا نہ کرتا تھا بہت دنوں سے مرے گھر پہ روز آتا ہے بلاتے رہتے تھے جس کو سنا نہ کرتا تھا یقیں نہیں ہے کہ مجبور ہو گیا وہ بھی خدا پرست تھا ایسا دعا نہ کرتا تھا ہزار آنکھوں پہ خوابوں نے دستکیں دی تھیں مگر وہ حال تھا دل کا کھلا نہ ...

مزید پڑھیے

دیوانہ کہے ہے کوئی فرزانہ کہے ہے

دیوانہ کہے ہے کوئی فرزانہ کہے ہے اے تاجؔ زمانہ تجھے کیا کیا نہ کہے ہے پھولوں کی خموشی ہو کہ بلبل کی فغاں ہو عنوان بدل کر مرا افسانہ کہے ہے انجام محبت ہے دل و جاں سے گزرنا ہر صبح یہ خاکستر پروانہ کہے ہے کیا فکر ہے ساقی جو مئے و جام نہیں ہیں دنیا تری آنکھوں ہی کو پیمانہ کہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 455 سے 4657