شاعری

اپنے حصے کی زمیں بھی چاہیے

اپنے حصے کی زمیں بھی چاہیے دل مکاں کو اک مکیں بھی چاہیے لڑکے والوں کی طلب تو دیکھیے لڑکی افسر بھی حسیں بھی چاہیے اس کی باتیں یاد کرتے ہیں چلو شام غم کچھ دل نشیں بھی چاہیے اس کی ہر دم ہاں گھمنڈی کر گئی اس کے منہ سے اک نہیں بھی چاہیے دم کرائے کے مکانوں میں گھٹے گھر ہو کیسا بھی ...

مزید پڑھیے

چمن اتنا خزاں آثار پہلے کب ہوا تھا

چمن اتنا خزاں آثار پہلے کب ہوا تھا بلا کا قحط برگ و بار پہلے کب ہوا تھا حوادث اور میں بچپن سے گو لڑ بھڑ رہے تھے حوادث کا یہ گہرا وار پہلے کب ہوا تھا میں جن گلیوں میں پیہم بر سر گردش رہا ہوں میں ان گلیوں میں اتنا خار پہلے کب ہوا تھا میں بیمار محبت یوں تو پہلے بھی رہا ہوں مگر اس زور ...

مزید پڑھیے

اسے میں اور یہ میرا عصا ہی طے کرے گا

اسے میں اور یہ میرا عصا ہی طے کرے گا یہ راہ عشق مرا حوصلہ ہی طے کرے گا شب سیاہ کے دامن میں ہیں گہر کیا کیا نصیب والے! ترا رتجگا ہی طے کرے گا سمندروں سے مہ چار دہ کا کھیل ہے کیا کوئی کھلاڑی کوئی مہ لقا ہی طے کرے گا ہمارا دل ہے کسی کام کا کہ ناکارہ یہ امر آج کہ کل دل ربا ہی طے کرے ...

مزید پڑھیے

مہ و انجم نے قبا کی تو تمہارے لیے کی

مہ و انجم نے قبا کی تو تمہارے لیے کی چاند چہروں پہ ردا کی تو تمہارے لیے کی وہ بھی تھا موج میں یہ دل بھی بہکنے ہی کو تھا اپنے ہاتھوں نے حیا کی تو تمہارے لیے کی کوہ و صحرا میں بھٹکتے سر ساحل پھرتے میں نے ہر گام صدا کی تو تمہارے لیے کی دل کے اس تپتے ہوئے تند بیاباں کے بیچ میں نے اک ...

مزید پڑھیے

مجھ سا انجان کسی موڑ پہ کھو سکتا ہے

مجھ سا انجان کسی موڑ پہ کھو سکتا ہے حادثہ کوئی بھی اس شہر میں ہو سکتا ہے سطح دریا کا یہ سفاک سکوں ہے دھوکا یہ تری ناؤ کسی وقت ڈبو سکتا ہے خود کنواں چل کے کرے تشنہ دہانوں کو غریق ایسا ممکن ہے مری جان یہ ہو سکتا ہے بے طرح گونجتا ہے روح کے سناٹے میں ایسے صحرا میں مسافر کہاں سو سکتا ...

مزید پڑھیے

تری گلی میں گئے کتنے ماہ و سال ہوئے

تری گلی میں گئے کتنے ماہ و سال ہوئے گزر گئے کئی موسم ہمیں بحال ہوئے زباں میں تھی ابھی لکنت کہ حرف عشق کہا لڑکپنا تھا کہ زنجیر خد و خال ہوئے میں مسکراتا رہا اور مسکراتا رہا سوال مجھ پہ کئی میرے حسب حال ہوئے نہیں کہ کوہ کن و قیس کا زمانہ نہیں مگر یہ بات کہ یہ لوگ خال خال ...

مزید پڑھیے

بہت سے سیل حوادث کی زد پہ بہہ گئے ہیں

بہت سے سیل حوادث کی زد پہ بہہ گئے ہیں یہ چند ایک درختان سبز رہ گئے ہیں مکین دشت کے فی الفور دشت چھوڑ گئے کہ شیر زاد خموشی سے وار سہہ گئے ہیں زمین بانجھ ہے نازاد ہو گئے کھلیان اگرچہ صبح و مسا بار بار گہہ گئے ہیں پرندگاں! تمہیں کچھ بھی خبر نہ ہو پائی درخت ڈھے گئے انبار آب بہہ گئے ...

مزید پڑھیے

یہ جو کچھ آج ہے کل تو نہیں ہے

یہ جو کچھ آج ہے کل تو نہیں ہے یہ شام غم مسلسل تو نہیں ہے میں اکثر راستوں پر سوچتا ہوں یہ بستی کوئی جنگل تو نہیں ہے یقیناً تم میں کوئی بات ہوگی یہ دنیا یوں ہی پاگل تو نہیں ہے میں لمحہ لمحہ مرتا جا رہا ہوں مرا گھر میرا مقتل تو نہیں ہے کسی پر چھا گیا برسا کسی پر وہ اک آوارہ بادل تو ...

مزید پڑھیے

دل کو کوئی آزار تو ہوتا

دل کو کوئی آزار تو ہوتا اپنا کوئی غم خوار تو ہوتا صحرا بھی کر لیتے گوارا ذکر در و دیوار تو ہوتا سایۂ زلف یار نہیں تھا سایۂ یاد یار تو ہوتا آنکھوں سے کچھ خون ہی بہتا وہ دامن گلکار تو ہوتا لاکھ طلوع مہر تھے لیکن کوئی شب-بیدار تو ہوتا

مزید پڑھیے

علاج درد و غم زندگی کہاں سے لائیں

علاج درد و غم زندگی کہاں سے لائیں کہو جو صبر کریں صبر بھی کہاں سے لائیں یہ مہر و ماہ تو اس انجمن کی زینت ہیں ہم اپنے گھر کے لئے روشنی کہاں سے لائیں یہ سرد سرد ستارے دھواں دھواں مہتاب جو دل کو پھونک دے وہ چاندنی کہاں سے لائیں ہمارے شعروں نے توڑے تو ہیں ہزار طلسم تری نگاہ کی جادو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 457 سے 4657