شاعری

زخم لکھوں کہ ماجرا لکھوں

زخم لکھوں کہ ماجرا لکھوں یاد آیا ہے وہ تو کیا لکھوں حوصلہ زندگی کا کیا لکھوں بھول جانے کا مرحلہ لکھوں شدت عشق کا تقاضا ہے قربتوں کو بھی فاصلہ لکھوں اس کی ہم راہی کو بیان کروں یا کسی خاک سے ہوا لکھوں دل کی خواہش ہے اس کے چہرے پر اپنی تنہائی کی دعا لکھوں اک دیے کی مزاحمت ...

مزید پڑھیے

شاید مجھے تم نے کبھی سمجھا بھی نہیں تھا

شاید مجھے تم نے کبھی سمجھا بھی نہیں تھا میں ورنہ زمانے میں معما بھی نہیں تھا کچھ دیر چمکتا مرے گھر میں تو وہ کیسے وہ تو مری پلکوں کا ستارا بھی نہیں تھا جیسا مجھے برباد جہاں اس نے کیا ہے اس طرح تو میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا دیکھا تو یہ سوچا کہ ہمیشہ سے ہوں واقف پہلے تو اگرچہ ...

مزید پڑھیے

نہ راستہ کوئی اس کا نہ اس کا خواب کوئی

نہ راستہ کوئی اس کا نہ اس کا خواب کوئی پڑا نہ عشق پہ ایسا کبھی عذاب کوئی کسی کا حسن تھا یوں آنسوؤں کے دامن میں چراغ جلتا ہو جس طرح زیر آب کوئی زمانے بھر کی عطاؤں میں صرف اس کا کرم کرم بھی ایسا کہ جس کا نہیں جواب کوئی تمازت غم دنیا میں اس کو یاد کیا تو دشت دل پہ برستا رہا سحاب ...

مزید پڑھیے

حادثے ایسے بھی اب عشق میں ہو جاتے ہیں

حادثے ایسے بھی اب عشق میں ہو جاتے ہیں جاگنا چاہیں مگر ہجر میں سو جاتے ہیں ضبط نظارہ نے توفیق نہیں دی ورنہ ہم ہیں وہ لوگ کہ دیوانے بھی ہو جاتے ہیں بدلیاں دیکھ کے موسم کا کوئی گیت نہ گا ایسے بادل تو ہری فصل ڈبو جاتے ہیں ہم سے آوارہ مزاجوں کی صفت ایسی ہے ایک لمحہ کو ٹھہر جائیں تو ...

مزید پڑھیے

ہر ایک چہرے پہ دل کو گمان اس کا تھا

ہر ایک چہرے پہ دل کو گمان اس کا تھا بسا نہ کوئی یہ خالی مکان اس کا تھا بہت دنوں سے مجھے یاد بھی نہیں آتا تمام عمر ہی مجھ کو دھیان اس کا تھا میں بے جہت ہی رہا اور بے مقام سا وہ ستارہ میرا سمندر نشان اس کا تھا میں اس طلسم سے باہر کہاں تلک جاتا فضا کھلی تھی مگر آسمان اس کا تھا پھر اس ...

مزید پڑھیے

طلسم عشق تھا سب اس کا سات ہونے تک

طلسم عشق تھا سب اس کا سات ہونے تک خیال درد نہ آیا نجات ہونے تک ملا تھا ہجر کے رستے میں صبح کی مانند بچھڑ گیا تھا مسافر سے رات ہونے تک عجیب رنگ بدلتی ہے اس کی نگری بھی ہر ایک نہر کو دیکھا فرات ہونے تک وہ اس کمال سے کھیلا تھا عشق کی بازی میں اپنی فتح سمجھتا تھا مات ہونے تک ہے ...

مزید پڑھیے

اس کی یادوں کا سلسلہ ہوگا

اس کی یادوں کا سلسلہ ہوگا اس کہانی میں اور کیا ہوگا جب بچھڑ کر بھی وہ خموش رہا گھر پہنچ کر تو رو دیا ہوگا خود کو سمجھا لیا ہے میں نے مگر کیا وہ خود بھی بدل گیا ہوگا اتنا آساں نہ تھا مجھے کھونا اس نے خود کو گنوا دیا ہوگا مجھ کو ویران کر دیا جس نے کہیں آباد تو ہوا ہوگا سوچتا ہوں ...

مزید پڑھیے

یہ دور وہ ہے کہ جس کا نسب نہیں کوئی

یہ دور وہ ہے کہ جس کا نسب نہیں کوئی اداس ہوں تو بہت ہوں سبب نہیں کوئی وہ جس میں یادوں کے روشن چراغ جلتے ہیں بہت سی راتیں ہیں لیکن وہ سب نہیں کوئی گواہ تھا جو ہماری تمہاری چاہت کا شجر وہ اب بھی وہاں ہے اور اب نہیں کوئی اسی امید پہ روشن ہے خواہشوں کا نگر وہ آ بھی جائے پلٹ کر عجب ...

مزید پڑھیے

طلسم عشق تھا سب اس کا ساتھ ہونے تک

طلسم عشق تھا سب اس کا ساتھ ہونے تک خیال درد نہ آیا نجات ہونے تک ملا تھا ہجر کے رستے میں صبح کی مانند بچھڑ گیا تھا مسافر سے رات ہونے تک عجیب رنگ یہ بستی ہے اس کی نگری بھی ہر ایک نہر کو دیکھا فرات ہونے تک وہ اس کمال سے کھیلا تھا عشق کی بازی میں اپنی فتح سمجھتا تھا مات ہونے تک ہے ...

مزید پڑھیے

دل کو اس کا خیال پیہم ہے

دل کو اس کا خیال پیہم ہے وقت کو یہ ملال پیہم ہے خواہشوں کا تری حضوری میں وہی دست سوال پیہم ہے اس کی قربت کی آگ ہے دل میں آسماں پر ملال پیہم ہے کاروبار جہاں میں یاد اس کی جیسے کوئی کمال پیہم ہے زخم بھرتے نہیں ہیں یادوں کے لذت اندمال پیہم ہے وہ نہیں ہے تو وقت کچھ بھی نہیں وہی بس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 454 سے 4657