شاعری

اب وہ پہلا سا سلسلہ بھی نہیں

اب وہ پہلا سا سلسلہ بھی نہیں آنکھ میں کوئی رت جگا بھی نہیں ہجر کی اک کسک تو ہے لیکن میں محبت کی شاعرہ بھی نہیں یہ عبادت نہیں محبت ہے آپ انسان ہیں خدا بھی نہیں درد دل کی دوا کا ذکر ہی کیا اب لبوں پر کوئی دعا بھی نہیں کوئی احساس کیسے جاگے گا آپ کے گھر میں آئنہ بھی نہیں آپ کو ...

مزید پڑھیے

یہ جو تم دیکھ رہے ہو خس و خاشاک پہ خاک

یہ جو تم دیکھ رہے ہو خس و خاشاک پہ خاک اس سے بڑھ کر ہے مری خواہش صد چاک پہ خاک گر کوئی خواب نہیں ہے مری آنکھوں میں تو پھر میرے سامان پہ حسرت مری املاک پہ خاک میں نے اڑنے ہی نہیں دی ہے رہ عشق میں گرد میں نے پڑنے ہی نہیں دی تری پوشاک پہ خاک نسبت خاک پہ شرمندگی کیوں ہو مجھ کو دستکیں ...

مزید پڑھیے

اب ہر اک درد کو اس درد کی لذت جانو

اب ہر اک درد کو اس درد کی لذت جانو اور آنکھوں کو کسی خواب کی قیمت جانو سب پرندوں کو اسی یاد کا مظہر سمجھو ساری خوشیوں کو اسی غم کی علامت جانو حسن دنیا کو اسی شکل کا پرتو سمجھو زندگی اس کی ہی یادوں کی امانت جانو کون ملتا ہے کسے صرف محبت کے طفیل وہ بچھڑ جائے تو اس کو ہی حقیقت ...

مزید پڑھیے

لب تک آیا گلہ ہمیشہ سے

لب تک آیا گلہ ہمیشہ سے اور میں چپ رہا ہمیشہ سے سب ہواؤں سے جنگ کرتا رہا ایک ننھا دیا ہمیشہ سے سوچ پر لگ سکی نہ پابندی یوں ہی آئی ہوا ہمیشہ سے کتنی شکلیں بدل کے آتا ہے اک وہی واقعہ ہمیشہ سے بات آسودگی کی ہوتی ہے کون کس کو ملا ہمیشہ سے یاد کرتا رہا کسی کو کوئی پھول دل میں کھلا ...

مزید پڑھیے

جو مل گیا ہے یہاں جلوۂ خیالی ہے

جو مل گیا ہے یہاں جلوۂ خیالی ہے یہ بات ہم نے محبت میں آزما لی ہے عجیب سلطنت عشق میں نظام ملا جو بادشاہ نظر آتا ہے اک سوالی ہے تمہاری یاد بڑھی اور دل ہوا روشن یہ ایک شمع اندھیرے نے خود جلا لی ہے ہنر کی آگ جلائی ہے خاک سے اس نے کمال اس کا ہی ہے میری بے کمالی ہے سدا یہ سوچتا ہوں اس ...

مزید پڑھیے

وہ جو خوابوں کے گھر کا رستہ ہے

وہ جو خوابوں کے گھر کا رستہ ہے خواہش در بدر کا رستہ ہے اس کی یادوں کی رہ گزر تھی جہاں اب وہ شہر ہنر کا رستہ ہے اس سے ملنے کی خواہشوں کے لئے ایک تنہا سفر کا رستہ ہے ایک لمحہ کو اس کی منزل ہے اور پھر عمر بھر کا رستہ ہے عشق آساں سفر ہے کس کے لئے یہ مری جان سر کا رستہ ہے جو مرے ہجر کی ...

مزید پڑھیے

یہ بھی موسم عجیب موسم ہے

یہ بھی موسم عجیب موسم ہے اس سے بچھڑے ہیں اور دکھ کم ہے مستقل اس کو یاد کرتا ہوں مستقل ایک سا ہی عالم ہے ایک چہرہ ہے جس کو دیکھتا ہوں ایک آواز ہے جو پیہم ہے تم بھی اس کی نشانیاں سن لو لہجہ خوشبو ہے بات شبنم ہے چیختا ہوں اسے بلانے کو اور آواز پھر بھی مدھم ہے سوچتا ہوں کہ میں نہیں ...

مزید پڑھیے

ہے زمانے کا کاروبار وہی

ہے زمانے کا کاروبار وہی روش بزم روزگار وہی تم گئے ہو تو کچھ نہیں بدلا پھول ویسے ہی ہیں بہار وہی روز چلتا ہوں تم نہیں ہوتے پیڑ دو رویہ رہ گزار وہی منزل شوق بھی نہیں بدلی رہ گزر بھی وہی غبار وہی ہاں کوئی داغ بھی نیا نہ ملا حسرتوں کا بھی ہے شمار وہی ہاں وہ صحرا بھی کچھ نہیں ...

مزید پڑھیے

نہ فاصلے رہے قائم نہ قربتیں اب کے

نہ فاصلے رہے قائم نہ قربتیں اب کے عجیب حال سے گزری ہیں الفتیں اب کے ہمارے ساتھ جو چلتا تھا وہ نہیں آیا گزر چلی ہیں بہاروں کی مدتیں اب کے ہر اک قدم پہ سراب وفا میں ڈوبے تھے ہر اک قدم پہ ملی ہیں حقیقتیں اب کے وہ یک بیک جو ملے گا تو کیسے دیکھیں گے ہوئی ہیں جس سے ملے ہم کو مدتیں اب ...

مزید پڑھیے

یہ آنکھ بھی یہ خواب بھی یہ رات اسی کی

یہ آنکھ بھی یہ خواب بھی یہ رات اسی کی ہر بات پہ یاد آئی ہے ہر بات اسی کی جگنو سے چمکتے ہیں اسی یاد کے ہر دم آنکھوں میں لئے پھرتے ہیں سوغات اسی کی ہر شعلے کے پیچھے ہے اسی آگ کی صورت ہر بات کے پردے میں حکایات اسی کی پھر وحشت دل ڈھونڈھتی پھرتی ہے ہمیشہ دیوانگئ غم پہ مدارات اسی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 453 سے 4657