شاعری

مجھے وہ چھوڑ کر جب سے گیا ہے انتہا ہے

مجھے وہ چھوڑ کر جب سے گیا ہے انتہا ہے رگ و پے میں فضائے کربلا ہے انتہا ہے مرے حالات ہیں ناراض اس پہ کیا کروں میں گریزاں آسمانوں سے دعا ہے انتہا ہے غم و آلام ہیں یا حسرتیں ہیں زندگی میں تمہارے بعد باقی کیا بچا ہے انتہا ہے فقط تم ہی نہیں ناراض مجھ سے جان جاناں مرے اندر کا انساں تک ...

مزید پڑھیے

ہجر کی رعنائی مجھ سے چھین لی

ہجر کی رعنائی مجھ سے چھین لی یاد نے تنہائی مجھ سے چھین لی آنکھ کھلتے ہی تمہاری یاد نے ٹوٹتی انگڑائی مجھ سے چھین لی اس کے ہونٹوں کی شفق نے آج پھر قوت گویائی مجھ سے چھین لی ہاتھ میں اس نے تھمایا اک دیا اور پھر بینائی مجھ سے چھین لی دل میں جینے کی جو خواہش تھی کبھی تو نے وہ ہرجائی ...

مزید پڑھیے

گزرا جدھر سے راہ کو رنگین کر گیا

گزرا جدھر سے راہ کو رنگین کر گیا جگنو اک آفتاب کی توہین کر گیا کس نے بٹھایا مجھ کو سر مسند سناں یہ کون میرے جسم کی تزئین کر گیا اشکوں نے زخم زخم کو اندر سے دھو دیا یہ غم ترا تو روح کی تسکین کر گیا یہ کس کی خامشی سے ہے نبض جہاں رکی یہ کون کائنات کو غمگین کر گیا آیا تھا لے کے زیست ...

مزید پڑھیے

حیات و موت کی الجھن میں ڈالتا کیوں ہے

حیات و موت کی الجھن میں ڈالتا کیوں ہے یہ تہمتیں مرے اوپر اچھالتا کیوں ہے اب آ گیا ہوں تو خطرے میں ڈالتا کیوں ہے اندھیری رات میں گھر سے نکالتا کیوں ہے ابھی معاملۂ کائنات طے کر دے ذرا سی بات قیامت پہ ٹالتا کیوں ہے کسی طرح بھی تو انساں ترا حریف نہیں پھر اس غریب کو تو مار ڈالتا ...

مزید پڑھیے

باڑھ آئی گاؤں کو دریا بہا کر لے گیا

باڑھ آئی گاؤں کو دریا بہا کر لے گیا ایک پیاسا دوسرے پیاسے کو آ کر لے گیا روح میں صدیوں کا سناٹا بسا کر لے گیا میں جو ارض شہر سے صحرا اٹھا کر لے گیا ذہن کی الماریوں میں دھول سی اڑنے لگی کوئی الفاظ و معانی سب چرا کر لے گیا رہ گیا قائم پھر اس کی پاک بازی کا بھرم پھر وہ اک شیطان سے ...

مزید پڑھیے

سورج کی طرح اپنے ہی محور میں قید ہوں

سورج کی طرح اپنے ہی محور میں قید ہوں صدیوں سے روشنی کے سمندر میں قید ہوں سر سے گزرتی جاتی ہیں لمحوں کی آندھیاں میں ہوں کہ ماہ و سال کے چکر میں قید ہوں کیا کیا نہ سوچتا ہوں میں فردا کے باب میں حالانکہ جانتا ہوں مقدر میں قید ہوں چاہوں تو کائنات کے خرمن کو پھونک دوں تم کیا سمجھ رہے ...

مزید پڑھیے

چاندنی کا ہے بدن یا ہے بدن میں چاندنی

چاندنی کا ہے بدن یا ہے بدن میں چاندنی جب اترتا ہے اترتی ہے چمن میں چاندنی تیرگی جب پاؤں پھیلائے تو پھر سننا اسے باندھ کر رکھتا ہے وہ اپنے سخن میں چاندنی جب بھی لکھتا ہوں قلم سے پھوٹتی ہے روشنی گھول دی ہے کس نے دشت فکر و فن میں چاندنی یار کی شہر بتاں میں اک نشانی یہ بھی ہے چاند ...

مزید پڑھیے

بجھ رہی ہے آنکھ یہ جسم ہے جمود میں

بجھ رہی ہے آنکھ یہ جسم ہے جمود میں اے مکین شہر دل آ مری حدود میں پڑ گئی دراڑ سی کیا درون دل کہیں آ گئی شکستگی کیوں مرے وجود میں خواہش قدم کہ ہوں اس طرف ہی گامزن دل کی آرزو رہے اس کی ہی قیود میں رنگ کیا عجب دیا میری بے وفائی کو اس نے یوں کیا کہ میرے خط جلائے عود میں تو نے جو دیا ...

مزید پڑھیے

وہ نہیں یارو کسی بھی بات میں

وہ نہیں یارو کسی بھی بات میں جیت کر بھی جو مزہ ہے مات میں ہر کسی کے گرد لوگوں کا ہجوم ہر کوئی تنہا ہے اپنی ذات میں دیکھنے والے انہیں پڑھ غور سے ایک اک دنیا ہے ان ذرات میں کھا گئی اب تک یہ کتنے آفتاب راز ہے مضمر عجب اس رات میں بے گناہوں کے لہو کی سرخیاں جا بجا بکھری ہیں اخبارات ...

مزید پڑھیے

میں اک بہتا دریا ہوں

میں اک بہتا دریا ہوں لیکن کتنا پیاسا ہوں راہ میں گم صم بیٹھا ہوں اک اک کا منہ تکتا ہوں تجھ کو اپنا کہتا ہوں کتنا بھولا بھالا ہوں دھوپ میں تپتا صحرا ہوں جنم جنم کا پیاسا ہوں پھر تجھ تک لوٹ آیا ہوں شاید کھوٹا سکہ ہوں اکثر تیرے بارے میں سپنے دیکھا کرتا ہوں تو بھی ایک کھلونا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 449 سے 4657