مجھے وہ چھوڑ کر جب سے گیا ہے انتہا ہے
مجھے وہ چھوڑ کر جب سے گیا ہے انتہا ہے رگ و پے میں فضائے کربلا ہے انتہا ہے مرے حالات ہیں ناراض اس پہ کیا کروں میں گریزاں آسمانوں سے دعا ہے انتہا ہے غم و آلام ہیں یا حسرتیں ہیں زندگی میں تمہارے بعد باقی کیا بچا ہے انتہا ہے فقط تم ہی نہیں ناراض مجھ سے جان جاناں مرے اندر کا انساں تک ...