شاعری

خوشبو کا جسم یاد کا پیکر نہیں ملا

خوشبو کا جسم یاد کا پیکر نہیں ملا دل جس سے ہو شگفتہ وہ منظر نہیں ملا آخر بجھاتا کیسے وہ اپنی لہو کی پیاس تلوار مل گئی تو کوئی سر نہیں ملا ناگاہ دوستوں کی طرف اٹھ گئی نگاہ جب دشمنوں کے ہاتھ میں خنجر نہیں ملا پھرتا ہوں کب سے نقد دل و جاں لیے ہوئے میں وہ سخی ہوں جس کو گداگر نہیں ...

مزید پڑھیے

آ گیا یاد خدا آخر کار

آ گیا یاد خدا آخر کار اٹھ گیا دست دعا آخر کار ہم کہ تھے سرکش و مغرور بہت سر جھکانا ہی پڑا آخر کار کان سے جو نہ سنا تھا پہلے آنکھ سے دیکھ لیا آخر کار دل میں اب کوئی تمنا نہ رہی بجھ گیا یہ بھی دیا آخر کار آئے جس کے بھی قدم دھرتی پر ایک دن مر ہی گیا آخر کار

مزید پڑھیے

تنہائی مل سکی نہ گھڑی بھر کسی کے ساتھ

تنہائی مل سکی نہ گھڑی بھر کسی کے ساتھ سایہ بھی میرے ساتھ رہا روشنی کے ساتھ روشن ہوا نہ کوئی دریچہ مرے بغیر اک ربط خاص رکھتا ہوں میں اس گلی کے ساتھ دو دن کی زندگی میں بھی دھڑکا تھا حشر کا کرتے رہے گناہ مگر بے دلی کے ساتھ میں بے عمل تھا فرد عمل کیسے بن گئی کیسا مذاق ہے یہ مری بے ...

مزید پڑھیے

جو ہم کہیں وہی طرز بیان رکھتا ہے

جو ہم کہیں وہی طرز بیان رکھتا ہے وہ اپنے منہ میں ہماری زبان رکھتا ہے رسائی تا بہ سر لا مکان رکھتا ہے پرند فکر غضب کی اڑان رکھتا ہے سنا ہے پاؤں تلے آسمان رکھتا ہے فقیر شہر بڑی آن بان رکھتا ہے وہ جس کو سایۂ دیوار تک نصیب نہیں نہ جانے ذہن میں کتنے مکان رکھتا ہے بہت بلیغ ہے انداز ...

مزید پڑھیے

تیرے باعث مسئلہ حل ہو گیا

تیرے باعث مسئلہ حل ہو گیا میں ادھورا تھا مکمل ہو گیا جان دی اس نے میں پاگل ہو گیا اور افسانہ مکمل ہو گیا مجھ کو لے کر ریل آگے بڑھ گئی اور گیلا اس کا آنچل ہو گیا یہ سمندر کس قدر تھا پر سکوں چاند کو دیکھا تو پاگل ہو گیا اب مری اچھائیاں بھی عیب ہیں اب مرا سونا بھی پیتل ہو گیا ہر ...

مزید پڑھیے

ہوتا ہر قید سے آزاد تو اچھا ہوتا

ہوتا ہر قید سے آزاد تو اچھا ہوتا کاش میں پیڑ سے ٹوٹا ہوا پتا ہوتا وہ ہے بس ایک سراب اس کا تعاقب نہ کرو ابر ہوتا تو کہیں ٹوٹ کے برسا ہوتا چاند بن کر ہے تو محتاج ضیائے خورشید شمع بنتا تو کسی گھر کا اجالا ہوتا چھین لیں مجھ سے اجالوں نے تری یادیں بھی اس سے بہتر تھا کہ دنیا میں ...

مزید پڑھیے

کوئی دیکھے تو یہ انداز ستانے والا

کوئی دیکھے تو یہ انداز ستانے والا مجھ سے غافل ہے مرے خواب میں آنے والا بعض اوقات یہ دیکھا ہے تری گلیوں میں راستہ بھول گیا راہ بتانے والا درس عبرت مرا انجام ہے دنیا کے لیے اب تری باتوں میں کوئی نہیں آنے والا گمرہی کا مجھے احساس دلا دیتا ہے بعض اوقات کوئی ٹھوکریں کھانے ...

مزید پڑھیے

کوئی تو سوغات اس کے شہر کی گھر لے چلو

کوئی تو سوغات اس کے شہر کی گھر لے چلو کچھ نہیں تو جسم پر زخموں کی چادر لے چلو پیار کے بوسیدہ پھولوں کی یہاں قیمت نہیں شیش محلوں سے گزرنا ہے تو پتھر لے چلو ہوں گے ارباب تماشا میں کچھ اہل درد بھی چند آنسو بھی تبسم میں چھپا کر لے چلو رات جب بھیگی تو سائے نے مجھے آواز دی میں ہی ...

مزید پڑھیے

میرا مقصود نظر لوح مقدر میں نہیں

میرا مقصود نظر لوح مقدر میں نہیں میں وہ موتی ڈھونڈھتا ہوں جو سمندر میں نہیں بات کرنے کی بھی اب فرصت نہیں شاید اسے میں نے جب آواز دی کہلا دیا گھر میں نہیں کس طرح سے دھوئیے چہرے سے گرد ماہ و سال اتنے آنسو بھی تو اپنے دیدۂ تر میں نہیں جگمگا سکتی ہو جس سے خامشی کی ریگ دل اتنی آب و ...

مزید پڑھیے

اول وہی سیراب تھا ثانی بھی وہی تھا

اول وہی سیراب تھا ثانی بھی وہی تھا پتھر سے گزرتا ہوا پانی بھی وہی تھا نوخیز دعاؤں کا شجر کار بھی نکلا بوسیدہ تمناؤں کا بانی بھی وہی تھا آنکھوں پہ جو رکھتا رہا رومال تسلی نم دیدہ گر نقل مکانی بھی وہی تھا آیات ارادہ پہ وہی نور کی انگلی اوراق سیہ تر کا گیانی بھی وہی تھا کوکب سا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 450 سے 4657