مایوسی میں دل بیچارہ صدیوں سے
مایوسی میں دل بیچارہ صدیوں سے ڈھونڈ رہا ہے ایک سہارا صدیوں سے ایک ہی بات عبث دہرائے جاتا ہے تن میں چلتا سانس کا آرا صدیوں سے ہیرؔ اگرچہ میں نے اپنی پالی ہے ڈھونڈ رہا ہوں تخت ہزارا صدیوں سے تم سے کیسے سمٹے گا یہ لمحوں میں دل اپنا ہے پارہ پارہ صدیوں سے کس اعلان کو گونج رہا ہے نس ...