شاعری

مایوسی میں دل بیچارہ صدیوں سے

مایوسی میں دل بیچارہ صدیوں سے ڈھونڈ رہا ہے ایک سہارا صدیوں سے ایک ہی بات عبث دہرائے جاتا ہے تن میں چلتا سانس کا آرا صدیوں سے ہیرؔ اگرچہ میں نے اپنی پالی ہے ڈھونڈ رہا ہوں تخت ہزارا صدیوں سے تم سے کیسے سمٹے گا یہ لمحوں میں دل اپنا ہے پارہ پارہ صدیوں سے کس اعلان کو گونج رہا ہے نس ...

مزید پڑھیے

اقرار کا مطلب ہو کہ انکار کے معنی

اقرار کا مطلب ہو کہ انکار کے معنی کوئی تو ہو سمجھے مری گفتار کے معنی اس جیسا کوئی ہو تو کہے اس کی مثالیں ہو یار سا کوئی تو کرے یار کے معنی یہ جسم دل و جاں تو ہیں بن مانگے ہی تیرے پھر کیا ہیں ترے دست طلب گار کے معنی اک وہ کہ اٹھاتا گیا بنیاد برابر اک میں کہ سمجھتا گیا دیوار کے ...

مزید پڑھیے

گر کے بستر پہ رو رہا ہوگا

گر کے بستر پہ رو رہا ہوگا وہ بھی تکیہ بھگو رہا ہوگا ہونٹ خوشیاں پرو رہے ہوں گے دل میں کچھ درد ہو رہا ہوگا یہ زمیں مجھ پہ ہنس رہی ہوگی آسماں خون رو رہا ہوگا کشت تعبیر کی لگن میں کوئی خواب در خواب بو رہا ہوگا نذر دنیا نہیں کیا ہے جو درد میرے سینے میں تو رہا ہوگا راہ کٹ جائے گی ...

مزید پڑھیے

رواج و رسم نہ گھر بار کے مسافر ہیں

رواج و رسم نہ گھر بار کے مسافر ہیں ہم اور لوگ ہیں اس پار کے مسافر ہیں سفر قدیم سے درپیش کون سا ہے ہمیں نہ جانے کون سی دیوار کے مسافر ہیں نہ منزلوں کا تعین نہ راستوں کی خبر ہم ایسے لوگ تو بیکار کے مسافر ہیں نہ سر میں ڈر ہے کہیں کا نہ خوف جور و ستم عذاب راس ہیں آزار کے مسافر ...

مزید پڑھیے

اک پل جیتا ہے تو طاہرؔ اک پل مرتا رہتا ہے

اک پل جیتا ہے تو طاہرؔ اک پل مرتا رہتا ہے میرا دل سینے کے اندر ماتم کرتا رہتا ہے اس کی ضد اور دل کی خواہش کے مابین نہ جانے کیوں ریزہ ریزہ سوچوں کا دیوان بکھرتا رہتا ہے بعض اوقات میں یوں بھی اس کو رونے پر اکساتا ہوں رو کر اس کا سندر چہرہ اور سنورتا رہتا ہے جان تو مجھ کو پہلے سے ...

مزید پڑھیے

کہیں دیوار ہے تو در غائب

کہیں دیوار ہے تو در غائب اور کہیں پر ہمارا گھر غائب ہم سفر ہے کہیں سفر غائب ہے سفر گر تو ہم سفر غائب اے خدا کون سا طلسم ہے یہ جسم موجود ہیں یہ سر غائب شوق پرواز ہے سبھی میں مگر طائران چمن کے پر غائب آسماں بھی نہیں رہا سر پر اس پہ پاؤں سے ہے سفر غائب میں بھی بیعت کروں بہ دست ...

مزید پڑھیے

شباب موسم ہرے چمن میں اتارنا ہے

شباب موسم ہرے چمن میں اتارنا ہے کمال جتنا بھی ہے سخن میں اتارنا ہے خدائے فن تو مرے قلم میں اتر کہ میں نے کسی کو غزلوں کے پیرہن میں اتارنا ہے وہ جتنا سونا بھی کوہ سر میں پڑا ہوا ہے بنا کے کندن کسی بدن میں اتارنا ہے نکھار دے جو مری نظر کے تمام منظر وہ نور سر کے اجاڑ بن میں اتارنا ...

مزید پڑھیے

حسن شعار میں مجھے ڈھلنے نہیں دیا

حسن شعار میں مجھے ڈھلنے نہیں دیا اس نے کسی بھی گام سنبھلنے نہیں دیا حائل رہ حیات میں حساسیت رہی اس دل نے دو قدم مجھے چلنے نہیں دیا رکھا بصد خلوص رگ و پے میں مستقل لمحہ کوئی بھی درد کا ٹلنے نہیں دیا کچھ وہ بھی چاہتا تھا یہاں مستقل قیام میں نے بھی اس کو دل سے نکلنے نہیں دیا محفل ...

مزید پڑھیے

بلا جواز نہیں ہے غرور آنکھوں میں

بلا جواز نہیں ہے غرور آنکھوں میں بسا ہوا ہے کوئی تو ضرور آنکھوں میں تسلیوں کا چراغاں شفیق ہونٹوں پر محبتوں کی انوکھی سطور آنکھوں میں وضوئے دید جدائی میں بھی میسر ہے ہیں گرچہ دور مگر ہیں حضور آنکھوں میں کہ رات دودھیا چادر میں خواب لپٹے تھے تمام دن تھا رہا اس کا نور آنکھوں ...

مزید پڑھیے

روشنی کر دے سر بہ سر مولا

روشنی کر دے سر بہ سر مولا اس کی آنکھوں میں نور بھر مولا صرف تیرا اسے سہارا ہو صرف تیرا ہی اس کو ڈر مولا اس کی خوش قسمتی رہے دائم اس سے قائم ہے میرا گھر مولا اس کی پرواز ہو ثریا تک کر دے مضبوط اس کے پر مولا نیکیاں ہوں قریب اور قریب دور اس سے ہوں سارے شر مولا شب تیرہ میں میرے کمسن ...

مزید پڑھیے
صفحہ 448 سے 4657