شاعری

سر دیوار چنوائی گئی ہوں

سر دیوار چنوائی گئی ہوں کبھی ہیروں میں تلوائی گئی ہوں میں عورت تھی شریک تخت کب تھی سو ملکہ کہہ کے بلوائی گئی ہوں مرے پیکر کا تھا پیہم تقاضہ میں ہر اک گام بہکائی گئی ہوں مقدس ہیں سبھی رشتے جو میرے تو کیوں بازار میں لائی گئی ہوں مری ہر سوچ پر پہرے لگے ہیں کہاں ذی عقل کہلائی گئی ...

مزید پڑھیے

ساحل سے اٹھا ہے نہ سمندر سے اٹھا ہے

ساحل سے اٹھا ہے نہ سمندر سے اٹھا ہے جو شور مری ذات کے اندر سے اٹھا ہے دریائے محبت کے کنارے کبھی کوئی ڈوبا ہے جو اک بار مقدر سے اٹھا ہے وہ آئے تو اس خواب کو تعبیر ملے گی جو خواب جزیرہ مرے ساگر سے اٹھا ہے میں اپنے رگ و پے میں اسے ڈھونڈ رہی ہوں جو شخص ابھی میرے برابر سے اٹھا ...

مزید پڑھیے

آئینے سے تمہاری نظر دیر سے ملی

آئینے سے تمہاری نظر دیر سے ملی مجھ کو نوید شام و سحر دیر سے ملی دریائے بے خودی کو بھنور دیر سے ملا پانی کو ساحلوں کی خبر دیر سے ملی شاید اسی لئے مجھے منزل نہ مل سکی مجھ کو تمہاری راہ گزر دیر سے ملی بے خواب راستوں میں یہ تعبیر درد دل مل تو گئی ہے مجھ کو مگر دیر سے ملی ان کو نہ مل ...

مزید پڑھیے

نگاہ سے بھی گئے عرض حال سے بھی گئے

نگاہ سے بھی گئے عرض حال سے بھی گئے وہ برہمی ہے کہ ہم بول چال سے بھی گئے وہ لفظ جو میں تری آرزو میں لکھتی تھی وہ نقش تو مری لوح خیال سے بھی گئے مثال دیتی تھی دنیا بھی جس رفاقت کی وہ فاصلے ہیں کہ اب اس مثال سے بھی گئے وہ طائران محبت جنہیں فلک نہ ملا اڑان بھر نہ سکے اور ڈال سے بھی ...

مزید پڑھیے

شیشہ میں ہے شراب تو شیشہ شراب میں

شیشہ میں ہے شراب تو شیشہ شراب میں یعنی ہے آفتاب حد آفتاب میں سرزد ہوئے گناہ جو عہد شباب میں مالک مرے انہیں تو نہ رکھنا حساب میں عالم یہی رہا تو نگاہوں کا ذکر کیا نیت بھی ڈوب جائے گی جام شراب میں اے برق کیا ہمیں کو مٹانا چمن میں تھا تھا اور آشیاں نہ کوئی انتخاب میں افقرؔ یہ سب ...

مزید پڑھیے

بس اتنی رہ گئی اہل وفا کی داستاں باقی

بس اتنی رہ گئی اہل وفا کی داستاں باقی سر محشر بھی ہے ذکر جبین و آستاں باقی رہے گا آشیاں بھی گر رہے گا گلستاں باقی یہ ضد اب تو رہے گی عمر بھر اے باغباں باقی میں ہر نقش قدم پر جھوم کے سجدے میں گرتا ہوں رہے کیوں احترام کوچۂ پیر مغاں باقی مٹا سکتے نہیں حشر و قیامت بھی یہ دو ...

مزید پڑھیے

کچھ عجب یہ بارگاہ عشق کا دستور ہے

کچھ عجب یہ بارگاہ عشق کا دستور ہے جتنا جو مختار ہے اتنا ہی وہ مجبور ہے موت پر قدرت ہے جینے کا نہیں مقدور ہے تو ہی درد دل بتا اب کیا تجھے منظور ہے ہو کے مختار اختیار خیر و شر سے دور ہے اتنی قدرت پر بھی انساں کس قدر مجبور ہے کتنا پر حیرت ہے منظر آستان یار کا دور سے نزدیک تر نزدیک سے ...

مزید پڑھیے

محشر کا اعتبار ہوا ہے کبھی کبھی

محشر کا اعتبار ہوا ہے کبھی کبھی بے پردہ حسن یار ہوا ہے کبھی کبھی رقصاں جمال یار ہوا ہے کبھی کبھی پردہ میں انتشار ہوا ہے کبھی کبھی پہنچی ہے خاک عاشق برباد عرش پر اونچا اگر غبار ہوا ہے کبھی کبھی زاہد طواف کرتے ہیں اس آستاں کا ہم کعبہ میں جو شمار ہوا ہے کبھی کبھی پیماں شکن کے ...

مزید پڑھیے

وعدۂ وصل یار نے مارا

وعدۂ وصل یار نے مارا شدت انتظار نے مارا منفعل ہو کے یار نے مارا شکوۂ بار بار نے مارا نہ چھپا راز دل مگر نہ چھپا دیدۂ اشک بار نے مارا بن کے تقدیر راہ غربت میں جنبش چشم یار نے مارا وعدۂ بے وفا وفا نہ ہوا مجھ کو اس اعتبار نے مارا صدقے دل ایسی رازداری پر جس کو ہو رازدار نے ...

مزید پڑھیے

محبت میں خرد کی رہبری دیکھی نہیں جاتی

محبت میں خرد کی رہبری دیکھی نہیں جاتی یہ توہین مذاق عاشقی دیکھی نہیں جاتی ہر اک تصویر کی جلوہ‌ گری دیکھی نہیں جاتی وہ صورت دیکھ کر پھر دوسری دیکھی نہیں جاتی بہار اچھی طرح گلشن میں آئی بھی نہیں لیکن اسیروں سے نظر صیاد کی دیکھی نہیں جاتی دل مضطر مرا پروردۂ آغوش طوفاں ہے خوشی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4487 سے 4657