سنی تو اس نے غیروں سے ہوا گو بد گماں ہم سے
سنی تو اس نے غیروں سے ہوا گو بد گماں ہم سے بہر صورت رہی بہتر ہماری داستاں ہم سے زباں پر آئے گی کیا پاس ناموس محبت سے نہیں دہرائی جاتی دل میں اپنی داستاں ہم سے چنے تھے چار تنکے ایک دن صحن گلستاں میں رہا تا زندگی برہم مزاج باغباں ہم سے دہائی ہے غم مجبوریٔ امکاں دہائی ہے کہ پھرتی ...