شاعری

سنی تو اس نے غیروں سے ہوا گو بد گماں ہم سے

سنی تو اس نے غیروں سے ہوا گو بد گماں ہم سے بہر صورت رہی بہتر ہماری داستاں ہم سے زباں پر آئے گی کیا پاس ناموس محبت سے نہیں دہرائی جاتی دل میں اپنی داستاں ہم سے چنے تھے چار تنکے ایک دن صحن گلستاں میں رہا تا زندگی برہم مزاج باغباں ہم سے دہائی ہے غم مجبوریٔ امکاں دہائی ہے کہ پھرتی ...

مزید پڑھیے

صبا کو فکر ہے کعبہ نیا بنانے کی

صبا کو فکر ہے کعبہ نیا بنانے کی کہ جمع کرتی ہے خاک ان کے آستانہ کی فلک کو ضد ہے نشیمن مرا مٹانے کی چمن میں دھن ہے مجھے آشیاں بنانے کی زمیں پہ لالہ و گل سے ہے ابتدائے بیاں شفق ہے آخری سرخی مرے فسانے کی اسی سے نکلے گا تعمیر کا بھی اک پہلو ضرور چاہیے تخریب آشیانے کی ہزار جلوۂ بے ...

مزید پڑھیے

وہ امنگیں نہیں اب وہ دل ناشاد نہیں

وہ امنگیں نہیں اب وہ دل ناشاد نہیں واقعہ خواب سا کچھ یاد ہے کچھ یاد نہیں کون سے ذرہ پہ دنیائے غم آباد نہیں دل برباد ہمارا دل برباد نہیں وہ ہو دنیا کہ لحد یا کہ ہو روز محشر مبتلائے غم جاناں کہیں آزاد نہیں تو جو سرگرم تماشا ہو دم مشق ستم کس کو پھر شوق شہادت ستم ایجاد نہیں پاس ہے ...

مزید پڑھیے

وحشت میں کوئی کار نمایاں نہ کر سکے

وحشت میں کوئی کار نمایاں نہ کر سکے دامن کو جیب جیب کو داماں نہ کر سکے درد دروں کا وہ بھی تو درماں نہ کر سکے دشواریٔ حیات کو آساں نہ کر سکے تر خون دل سے ناوک جاناں نہ کر سکے ہم اتنی بھی تو خاطر مہماں نہ کر سکے کچھ ایسے جلد ختم ہوئے زندگی کے دن ہم اعتبار عمر گریزاں نہ کر سکے دریا ...

مزید پڑھیے

رکھی ہے حسن پہ بنیاد عاشقی میں نے

رکھی ہے حسن پہ بنیاد عاشقی میں نے خوشی سے موت کو دے دی ہے زندگی میں نے کیا کبھی نہ سوا تیرے غیر کو سجدہ خراب شرک نہ کی رسم بندگی میں نے خدائی مل گئی سرکار عشق سے مجھ کو خودی کے بدلے طلب کی جو بے خودی میں نے چھلکتا ساغر مے پی کے چشم ساقی سے سکھائی سارے زمانہ کو مے کشی میں نے بہار ...

مزید پڑھیے

جبین شوق اتنی تو شریک کار ہو جائے

جبین شوق اتنی تو شریک کار ہو جائے جہاں سجدہ کروں میں آستان یار ہو جائے صبا برہم اگر زلف دراز یار ہو جائے قیامت کروٹیں لیتی ہوئی بیدار ہو جائے بنا دو جس کو تم مجبور وہ مجبور بن جائے جسے مختار تم کہہ دو وہی مختار ہو جائے تجھے معلوم کیا اے خواب ہستی دیکھنے والے وہی ہستی ہے ہستی جو ...

مزید پڑھیے

سر کو چاہا بھی اٹھانا تو اٹھایا نہ گیا

سر کو چاہا بھی اٹھانا تو اٹھایا نہ گیا کر کے سجدہ ترا پھر ہوش میں آیا نہ گیا جلوۂ طور کا ہو دیکھنے والا بے خود یہ بھی اک راز تھا اب تک جو بتایا نہ گیا تو نے کس ناز سے دیکھا تھا ازل میں ان کو آج تک ہوش میں دیوانوں سے آیا نہ گیا تا دم زیست نہ آیا مرے نامہ کا جواب نامہ بر مجھ کو برابر ...

مزید پڑھیے

شوق دل حسرت دیدار سے آگے نہ بڑھا

شوق دل حسرت دیدار سے آگے نہ بڑھا میں کبھی جلوہ گہہ یار سے آگے نہ بڑھا محرم راز حقیقت اسے سمجھیں کیونکر عشق میں جو رسن و دار سے آگے نہ بڑھا ننگ ہے عشق میں راحت طلبی اے غافل توسن عمر غم یار سے آگے نہ بڑھا خلد کو ہم بھی سمجھتے ہیں مگر اے واعظ خلد کو کوچۂ دل دار سے آگے نہ بڑھا میں نے ...

مزید پڑھیے

ترے حسن نظر کا یہ بھی اک اعجاز ہے ساقی

ترے حسن نظر کا یہ بھی اک اعجاز ہے ساقی کہ ہر مے کش زمیں پر آسماں پرواز ہے ساقی خیال اتنا رہے بس اپنے ساغر کی پلانے میں ترا انجام ہے ساقی مرا آغاز ہے ساقی کہیں باہم دگر ٹکرا نہ جائیں ساغر و مینا مئے سرجوش اس دم مائل پرواز ہے ساقی جبین شوق سجدہ کر کہاں کا پاس رسوائی خوشا وقتے کہ ...

مزید پڑھیے

موت کیا ختم حیات غم دنیا کرنا

موت کیا ختم حیات غم دنیا کرنا حاصل زیست ہے مرنے کی تمنا کرنا قصۂ طور کا ہے مجھ کو اعادہ کرنا ایک بار اور کرم برق تجلیٰ کرنا جب کہ آتا ہے نظر تیرا ہی جلوہ ہر سو پھر تو بیکار نگاہوں سے ہے پردہ کرنا آبرو کھوئی سر بزم گرا کر آنسو چشم خوں بار کو لازم نہ تھا رسوا کرنا سیکھ لے ہم سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4488 سے 4657