کچھ عجب یہ بارگاہ عشق کا دستور ہے
کچھ عجب یہ بارگاہ عشق کا دستور ہے
جتنا جو مختار ہے اتنا ہی وہ مجبور ہے
موت پر قدرت ہے جینے کا نہیں مقدور ہے
تو ہی درد دل بتا اب کیا تجھے منظور ہے
ہو کے مختار اختیار خیر و شر سے دور ہے
اتنی قدرت پر بھی انساں کس قدر مجبور ہے
کتنا پر حیرت ہے منظر آستان یار کا
دور سے نزدیک تر نزدیک سے پھر دور ہے
لذت ذوق اسیری ہے اسیری کا سبب
ورنہ چاہیں تو قفس سے آشیاں کیا دور ہے
گم ہوا ہوں شوق منزل میں کچھ اس انداز سے
یہ نہیں معلوم منزل مجھ سے کتنی دور ہے
وہ تصور سے نہ جائیں جان جائے یار ہے
مجھ کو یہ بھی بے خودیٔ عشق میں منظور ہے
ایک وہ ہیں جن کی طوفاں میں ہے ساحل پر نظر
ڈوبنے والے کو ساحل سے بھی ساحل دور ہے
کس سے ہو افقرؔ امید چارہ سازی دہر میں
جو بھی اس دنیا میں ہے مجبور ہے مجبور ہے