شاعری

بن بن کے بگڑتی ہے مری بات تو دیکھو

بن بن کے بگڑتی ہے مری بات تو دیکھو اس کوچۂ دل میں مری اوقات تو دیکھو جو جسم تمنا میں سلگتا ہے تمہاری اس جسم میں حسرت بھری اک رات تو دیکھو جس آنکھ نے دیکھے تھے کبھی خواب تمہارے اس آنکھ سے ہوتی ہوئی برسات تو دیکھو اے وقت شناسو یہ کڑا وقت ہے کیسا اے دست شناسو مرا تم ہات تو ...

مزید پڑھیے

عشق ہو جاؤں پیار ہو جاؤں

عشق ہو جاؤں پیار ہو جاؤں میں جو خوشبوئے یار ہو جاؤں جب بھی نکلوں میں ڈھونڈنے اس کو دھول مٹی غبار ہو جاؤں اس کے وعدے کا اعتبار کروں پھر شب انتظار ہو جاؤں اوڑھ لوں اس کی یاد کی چادر اور خود پر نثار ہو جاؤں میں ترا موسم خزاں پہنوں اور فصل بہار ہو جاؤں ایک شب اس کو اس طرح ...

مزید پڑھیے

جتنے ہیں رنگ چمن رنگ حنا ہو جائیں گے

جتنے ہیں رنگ چمن رنگ حنا ہو جائیں گے تم ہمیں دیکھو گے اور ہم آئنہ ہو جائیں گے خاک اوڑھیں گے پھریں گے کو بہ کو اور اس کے بعد ہم تری فرقت میں جانے کیا سے کیا ہو جائیں گے نقش بن کر پانیوں میں ڈوبتے ہیں جس طرح دیکھنا اس طرح اک دن ہم فنا ہو جائیں گے موت کی آندھی چلے گی اور پھر میرے ...

مزید پڑھیے

دیوار کے ہوئے تو کبھی در کے ہو گئے

دیوار کے ہوئے تو کبھی در کے ہو گئے میرے چراغ باد ستم گر کے ہو گئے میں اس طرح سے کوچۂ وحشت کی ہو گئی ملاح جس طرح سے سمندر کے ہو گئے اس کے دل و نگاہ کا کس سے کریں گلہ اس کے دل و نگاہ تو پتھر کے ہو گئے جو مجھ کو چاہتے تھے کبھی سر سے پاؤں تک دشمن نہ جانے کیوں وہ مرے سر کے ہو گئے جو ...

مزید پڑھیے

یہی تو میری وفا کا صلہ دیا ہے مجھے

یہی تو میری وفا کا صلہ دیا ہے مجھے کہ تم نے بھول سمجھ کر بھلا دیا ہے مجھے مرے خیال کی لو کو بجھانے والوں نے چراغ راہ سمجھ کر جلا دیا ہے مجھے کبھی تو سر میں سمایا جنون کی صورت کبھی غبار کی صورت اڑا دیا ہے مجھے تمہارے قرب کی خواہش نے دامن شب پر تمہارے وصل کا مژدہ سنا دیا ہے ...

مزید پڑھیے

تمہارا استعارہ آنکھ میں ہے

تمہارا استعارہ آنکھ میں ہے جہاں سارے کا سارا آنکھ میں ہے جہاں دو دل محبت سے ملے تھے وہ منظر وہ نظارہ آنکھ میں ہے نظر کی وسعتوں سے دل کی حد تک تمہارا ہر اشارہ آنکھ میں ہے جہاں میرے سہارے چھن گئے تھے وہ صحرا بے سہارا آنکھ میں ہے تمہارے وصل کے لمحے سے اب تک تمہارا قرب سارا آنکھ ...

مزید پڑھیے

دیکھنے میں جو لگے شام و سحر کے ساتھی

دیکھنے میں جو لگے شام و سحر کے ساتھی وہ تو ساتھی تھے فقط راہ گزر کے ساتھی اب کہاں ہیں وہ مرے اشک پرونے والے اب کہاں ہیں وہ مرے دیدۂ تر کے ساتھی تم کو دیکھا تو مرے دل نے کہا تم ہی تو ہو زخم دل زخم جگر زخم نظر کے ساتھی اس میں کیا شک زمن افروز رہا ہے یہ کلام ہم بھی رہتے ہیں مدام اہل ...

مزید پڑھیے

ترے خیال کو موج رواں بناتے ہوئے

ترے خیال کو موج رواں بناتے ہوئے میں پانیوں پہ چلی کشتیاں بناتے ہوئے مرے وجود کے ساحل پہ خواب بنتے ہیں تمہارے ہاتھ شب مہرباں بناتے ہوئے تمہارے ساتھ رفاقت کے خواب بنتی ہوں میں طائروں کے لئے آشیاں بناتے ہوئے زمیں سے اتنی محبت ہے مجھ کو میں ہر پل زمیں بناتی رہی آسماں بناتے ...

مزید پڑھیے

تجھ سے تعلقات کی تجدید کے لئے

تجھ سے تعلقات کی تجدید کے لئے میں نے چراغ ہاتھ میں امید کے لئے پھیلی ہے میرے دل میں ترے دل کی روشنی لمحات فکریہ ہیں یہ خورشید کے لئے اک شعر تجھ پہ اس طرح لکھوں کہ جس طرح مومن کا شعر غیرت ناہید کے لئے چھیڑا ہے ایک نغمۂ شیریں بھی کو بہ کو دل نے ہلال عید کی تائید کے لئے سوئے فلک ...

مزید پڑھیے

جن کے رستوں سے سدا میں نے ہٹائے پتھر

جن کے رستوں سے سدا میں نے ہٹائے پتھر وہ مرے سر کے لئے ڈھونڈ کے لائے پتھر میں نے دیکھا کہ مرے شیشۂ جاں پر اک دن تیرے کوچے میں ہر اک سمت سے آئے پتھر میں جسے دیکھ کے ہاتھوں میں دعائیں پہنوں وہ مجھے دیکھ کے ہاتھوں میں اٹھائے پتھر جو مجھے تیرے تعلق سے ملے میں نے وہی کبھی چومے کبھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4486 سے 4657