حسن کعبے کا ہے کوئی نہ صنم خانے کا
حسن کعبے کا ہے کوئی نہ صنم خانے کا صرف اک حسن نظر ہے ترے دیوانے کا عشق رسوا بھی ہے مجبور بھی دیوانہ بھی اور ابھی خیر سے آغاز ہے افسانے کا کار فرما ترے جلوؤں کی کشش ہے ورنہ شمع سے دور کا رشتہ نہیں پروانے کا یہی تکمیل محبت کی ہے منزل شاید ہوش اپنا مجھے باقی ہے نہ بیگانے کا کون ...