شاعری

حسن کعبے کا ہے کوئی نہ صنم خانے کا

حسن کعبے کا ہے کوئی نہ صنم خانے کا صرف اک حسن نظر ہے ترے دیوانے کا عشق رسوا بھی ہے مجبور بھی دیوانہ بھی اور ابھی خیر سے آغاز ہے افسانے کا کار فرما ترے جلوؤں کی کشش ہے ورنہ شمع سے دور کا رشتہ نہیں پروانے کا یہی تکمیل محبت کی ہے منزل شاید ہوش اپنا مجھے باقی ہے نہ بیگانے کا کون ...

مزید پڑھیے

حصول آرزو میں سعیٔ امکانی تو ہوتی ہے

حصول آرزو میں سعیٔ امکانی تو ہوتی ہے پریشانی سے کیا ڈرنا پریشانی تو ہوتی ہے کوئی گھبرا کے اپنی جان ہی دے دے تو کیا کہئے ہر اک مشکل سے پیدا ورنہ آسانی تو ہوتی ہے بہاروں سے تعلق عارضی اپنا سہی لیکن ہمارے گھر کی رونق اب بھی ویرانی تو ہوتی ہے مزاج حسن پر کیا زور اہل عشق کا ورنہ جب ...

مزید پڑھیے

آہ لب تک دل ناکام نہ آنے پائے

آہ لب تک دل ناکام نہ آنے پائے ضبط غم پر کوئی الزام نہ آنے پائے میں سناتا تو ہوں روداد محبت لیکن درمیاں میں جو ترا نام نہ آئے پائے تم نے چاہا بھی تو کیا دشمن راحت بن کر کوئی دنیا میں مرے کام نہ آنے پائے محفل عشق میں چھا جائے گا اک سناٹا یوں تڑپتا ہوں کہ آرام نہ آنے پائے دیکھ پائے ...

مزید پڑھیے

کہاں انجام کی تصویر اس نادان کے آگے

کہاں انجام کی تصویر اس نادان کے آگے بنائے ریت کی دیوار جو طوفان کے آگے حوادث کا تسلسل یوں ہی رہتا ہے زمانے میں کسی کی جان کے پیچھے کسی کی جان کے آگے ستارے ڈھالتی ہیں تربیت گاہیں تمدن کی تو پھر کیوں زندگی بے نور ہے انسان کے آگے لہو میں ڈوب کر جب اک نوائے جاں فزا نکلی ہزاروں ساز ...

مزید پڑھیے

یہ خواب جس نے دکھائے تھے اک سفر کے مجھے

یہ خواب جس نے دکھائے تھے اک سفر کے مجھے وہ اشک دے گیا آنکھوں میں عمر بھر کے مجھے ہے فن میں یکتا وہ صیاد ہو کہ ہو دلبر اڑان بھرنے کو کہتا ہے پر کتر کے مجھے کٹھن تھا راستہ دشوار تھی ہر اک منزل کوئی دکھائے اسی راہ سے گزر کے مجھے میں اس کی خاص نظر سے تڑپ تڑپ اٹھوں وہ اتنے پیار سے ...

مزید پڑھیے

مسلسل آنکھ میں یوں آنا جانا آنسوؤں کا ہے

مسلسل آنکھ میں یوں آنا جانا آنسوؤں کا ہے مرا چہرہ ہے اور مہمان خانہ آنسوؤں کا ہے بہت مشکل بیاں ہے چشم و دل کے خون ہونے کا بہت آسان پلکوں سے گرانا آنسوؤں کا ہے پڑے رہتے ہیں اس کی دید کے کچھ عکس کونوں میں وگرنہ آنکھ میں سارا ٹھکانہ آنسوؤں کا ہے فقط تجدید نو کی بات ہے ہر عہد میں ...

مزید پڑھیے

ازل سے لے کے ابد تک چراغ فانی ہوں

ازل سے لے کے ابد تک چراغ فانی ہوں ہوا کے دوش پہ لکھی ہوئی کہانی ہوں تو جانتا ہے مری بے گھری کے قصے کو میں لا مکاں سے مکاں تک تری کہانی ہوں میں روشنی ہوں میں خوشبو ہوں مجھ کو دیکھو تو کہیں چراغ کہیں رات کی میں رانی ہوں میں بادلوں میں چھپی رحمت خداوندی کہیں گھٹا تو کہیں بارشوں کا ...

مزید پڑھیے

یوں ستم کی نہ انتہا کیجے

یوں ستم کی نہ انتہا کیجے توبہ کیجے خدا خدا کیجے پیار میں خم ہے یہ سر تسلیم آپ اب جانیے کہ کیا کیجے قرض کوئی بھی ہم نہیں رکھتے آپ چاہت کی انتہا کیجے توڑ کر شیشۂ یقیں میرا لطف آزار کچھ سوا کیجے خواہشیں دل میں جب سلگتی ہوں کیسے جینے کا آسرا کیجے جان لیجے کہ ساتھ ہے افروزؔ آپ جب ...

مزید پڑھیے

ساری بزم طلب تمہاری ہے

ساری بزم طلب تمہاری ہے دن تمہارا ہے شب تمہاری ہے شاخ جاں پہ یہ پیار کی شبنم پہلے میری تھی اب تمہاری ہے میری سانسوں میں وصل کی خوشبو جتنی ہے سب کی سب تمہاری ہے یہ جو اک بے خودی کا دریا ہے اس میں موج طرب تمہاری ہے سوچتی ہوں کہ یہ بدن کی مہک کب نہیں اور کب تمہاری ہے نشۂ چشم و لب ...

مزید پڑھیے

وہ مہکتا ہے جو خوشبو کے حوالوں کی طرح

وہ مہکتا ہے جو خوشبو کے حوالوں کی طرح اس کو رکھا ہے کتابوں میں گلابوں کی طرح وہ جو خوابوں کے جزیرے میں نظر آتا ہے میرے ادراک میں رہتا ہے کناروں کی طرح بن کے احساس جو دھڑکن سے لپٹ جاتا ہے ساتھ رہتا ہے محبت میں خیالوں کی طرح دیکھنا خواب کی صورت میں نظر آئے گا وہ جو پلکوں پہ چمکتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4485 سے 4657