شاعری

اب تو مجھ کو مان کے دشمن

اب تو مجھ کو مان کے دشمن دوست بنے ہیں جان کے دشمن گاؤں میں بھی ہیں شہروں میں بھی ہر سو ہیں انسان کے دشمن دشمن ہے جو انسانوں کا ہم ہیں اس حیوان کے دشمن میرے بھی ہیں دشمن وہ لوگ جو ہیں ہندوستان کے دشمن آپ کے اپنے ہیں عالی جاہ غیر نہیں سلطان کے دشمن گلیوں گلیوں زلفیں کھولے پھرتے ...

مزید پڑھیے

مبتلائے ہراس لگتی ہے

مبتلائے ہراس لگتی ہے زندگی بد حواس لگتی ہے زندگی جوش سے بھری تھی کبھی اب تو خالی گلاس لگتی ہے کیسا گزرا ہے حادثہ جانے ساری بستی اداس لگتی ہے کس قدر بد نما ہے یہ دنیا کس قدر خوش لباس لگتی ہے بھول جاتا ہے تشنگی سب کی جب سمندر کو پیاس لگتی ہے گرم نظروں سے دیکھنے والے آگ سی دل کے ...

مزید پڑھیے

وفا پرستوں کے منہ سے زبان کھینچتا ہے

وفا پرستوں کے منہ سے زبان کھینچتا ہے ذرا ذرا پہ ستم گر کمان کھینچتا ہے میں چھوڑ کر چلا آیا ہوں شہر میں جس کو مجھے وہ گاؤں کا کچا کمان کھینچتا ہے یہ اور بات وہی فاصلہ ہے صدیوں سے زمیں کو اپنی طرف آسمان کھینچتا ہے مری نظر میں بہادر وہی سپاہی ہے خلاف ظلم جو اپنی کمان کھینچتا ...

مزید پڑھیے

حسین خوابوں کی محفل سجانا بھول گیا

حسین خوابوں کی محفل سجانا بھول گیا ملے وہ رنج کہ میں مسکرانا بھول گیا چراغاں میں نے کیا سارے شہر میں لیکن خود اپنے گھر کا اندھیرا مٹانا بھول گیا کہانیاں ہیں بہت میرے حافظے میں مگر جو یاد رکھنا تھا میں وہ فسانا بھول گیا تلاش زر میں میں پھرتا رہا زمانے میں جو میرے پاس تھا میں وہ ...

مزید پڑھیے

ہمارے دل کو تڑپایا بہت ہے

ہمارے دل کو تڑپایا بہت ہے ستم گر نے ستم ڈھایا بہت ہے کبھی تو آئے گا موسم خوشی کا لہو آنکھوں نے برسایا بہت ہے اجالے جب منظم ہو گئے ہیں اندھیرا پھر تو گھبرایا بہت ہے کہاں میں جاؤں گا میرے لئے تو تری دیوار کا سایہ بہت ہے تو کیوں رہبر کے پیچھے چل رہے ہو اگر رہبر نے بھٹکایا بہت ...

مزید پڑھیے

کب ضیا بار ترا چہرۂ زیبا ہوگا

کب ضیا بار ترا چہرۂ زیبا ہوگا کیا جب آنکھیں نہ رہیں گی تو اجالا ہوگا مشغلہ اس نے عجب سونپ دیا ہے یارو عمر بھر سوچتے رہیے کہ وہ کیسا ہوگا جانے کس رنگ سے روٹھے گی طبیعت اس کی جانے کس ڈھنگ سے اب اس کو منانا ہوگا اس طرف شہر ادھر ڈوب رہا تھا سورج کون سیلاب کے منظر پہ نہ رویا ہوگا یہی ...

مزید پڑھیے

جشن سوز غم مناتے جائیے

جشن سوز غم مناتے جائیے اشک پلکوں پر سجاتے جائیے زندگی بھر مسکراتے جائیے گوہر ہستی لٹاتے جائیے ذہن کی تاریکیاں مٹ جائیں گی شمع فکر و فن جلاتے جائیے عصر حاضر کا یہی ہے مدعا زخم کھا کر مسکراتے جائیے یہ دیار عشق کا دستور ہے اشک پلکوں میں چھپاتے جائیے منتظر ہیں اہل فن انورؔ ...

مزید پڑھیے

کبھی کبھی وہی بانگ درا لگے ہے مجھے

کبھی کبھی وہی بانگ درا لگے ہے مجھے کہ ٹوٹتی سی جو دل کی صدا لگے ہے مجھے مرا خلوص مجھے لے کے آ گیا ہے کہاں وہ ہنس کے گالیاں دے تو دعا لگے ہے مجھے نہ آیا حرف شکایت مرے لبوں پہ مگر یہ بات سچ ہے کہ وہ بے وفا لگے ہے مجھے جزا کی فکر ہو کیوں مجھ کو بزم ہستی میں مرا وجود ہی جب اک سزا لگے ہے ...

مزید پڑھیے

رب رٹا تا عمر لیکن رب سمجھ پائے نہیں

رب رٹا تا عمر لیکن رب سمجھ پائے نہیں عشق کر کے عشق کا مطلب سمجھ پائے نہیں آپ کو پتھر کی مورت میں فقط پتھر دکھا آپ سب کچھ جان کر بھی سب سمجھ پائے نہیں زندگی نے عشق کی باریکیاں سمجھائی پر جب سمجھنا تھا ہمیں ہم تب سمجھ پائے نہیں کس لیے آنکھوں نے پہنا آنسوؤں کا پیرہن یہ حقیقت ...

مزید پڑھیے

ہمارے پاس بھی دل ہے یہ اکثر بولتے ہیں

ہمارے پاس بھی دل ہے یہ اکثر بولتے ہیں محبت کر کے پھولوں سے یہ پتھر بولتے ہیں کسی کے ہونٹھ پر ہنستی ہیں پھولوں کی دوائیں کسی کی آنکھ میں چھپ کر سمندر بولتے ہیں کبھی جس میں شہنشاہوں حضوروں نے حکومت کی انہی محلوں کو سارے لوگ کھنڈر بولتے ہیں وہاں پر چور ہو جاتے ہے سب سپنے ترقی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4065 سے 4657