شاعری

مجھے معلوم ہے بستی میں غربت کم نہیں ہوتی

مجھے معلوم ہے بستی میں غربت کم نہیں ہوتی دلوں میں پھر بھی لوگوں کے محبت کم نہیں ہوتی میری فن کاری میری عمر سے پہچاننے والوں کسی ماچس کی اک تیلی میں طاقت کم نہیں ہوتی ککرمتوں کے بیچوں بیچ کھلتا گل بھی کہتا ہے کسی مفلس کو اپنانے سے عزت کم نہیں ہوتی اجالا سوریہ کا محلوں میں بھی ...

مزید پڑھیے

ڈوب کر آ رہا ہوں بھیتر سے

ڈوب کر آ رہا ہوں بھیتر سے ایک موتی ملا سمندر سے چین کی سانس لے سکوں گا اب دشمنی ہو گئی مقدر سے ایک آنسو کا بوجھ بھاری ہے بوند سے دریا سے سمندر سے بے سبب خوب مسکراتا ہے تو بھی ٹوٹا ہوا ہے اندر سے دیکھنے میں ستارے لگتے ہو آپ دھرتی سے ہیں یا امبر سے حق ادائی میں ہیں لگے دونوں درد ...

مزید پڑھیے

عشق میں الجھی پہیلی اور تم

عشق میں الجھی پہیلی اور تم میں تمہاری اک سہیلی اور تم آج کل دو لوگ میرے پاس ہیں زندگی میری اکیلی اور تم مجھ کو دیتی ہیں سکوں بے امتحاں اک تری نازک ہتھیلی اور تم درد میں میرے صدا شامل رہے آنسوؤں کی ایک ڈھیلی اور تم

مزید پڑھیے

ہوا میں اڑ نہ جائے داستاں دل کی دھواں ہو کر

ہوا میں اڑ نہ جائے داستاں دل کی دھواں ہو کر غزل میں نے کہی ہے بولتی سی بے زباں ہو کر ہمارے جسم پر سورج ستارے چاند چمکیں گے اگر ہم پھیل جائیں گے جہاں میں آسماں ہو کر مرے پیچھے بہت اشکوں بہت یادوں کی دنیا ہے چلا ہوں اس زمیں پر ہر جگہ میں کارواں ہو کر یقیناً پھولوں کی خوشبو میں جا ...

مزید پڑھیے

نئے دنوں کے نئے صحیفوں میں ذکر مہر و وفا نہیں ہے

نئے دنوں کے نئے صحیفوں میں ذکر مہر و وفا نہیں ہے محبتوں کی جسارتوں کی سزا نہیں ہے جزا نہیں ہے نگاہ کے شوخ پن کو بیگانگی کا آسیب ڈس گیا ہے مغائرت کا فسوں زدہ دل جنوں کے شایاں رہا نہیں ہے کوئی بھی سجنی کسی بھی ساجن کی منتظر ہے نہ مضطرب ہے تمام بام اور در بجھے ہیں کہیں بھی روشن دیا ...

مزید پڑھیے

بول دنیا کے رسیلے ہو گئے

بول دنیا کے رسیلے ہو گئے پھر یہ لہجے کیوں کٹیلے ہو گئے اتنی کم بارش میں کیا ہوتا بھلا خشک پتے صرف گیلے ہو گئے ایک گردہ بک گیا تو کیا ہوا ہاتھ تو بیٹی کے پیلے ہو گئے چیتھڑے پہلے تھے اب اجلا کفن مر گئے تو ہم سجیلے ہو گئے زہر اگلنا جن کا شیوہ کل رہا آج ان کے ہونٹ نیلے ہو گئے جانتے ...

مزید پڑھیے

رات اک بدنام گھر کی ہو رہی تھی چاندنی

رات اک بدنام گھر کی ہو رہی تھی چاندنی ایک میلی چاندنی کو دھو رہی تھی چاندنی اک بڑے ہوٹل کی ویراں چاندنی پر لیٹ کر جانے کیوں اپنا تقدس کھو رہی تھی چاندنی دوستوں کے ساتھ وہ تھا میکدے میں رات بھر اور بستر پر اکیلی سو رہی تھی چاندنی شہر میں جلتے مکاں بہتے لہو کو دیکھ کر جنگلوں میں ...

مزید پڑھیے

جفا جو نے کی تھی وفا اتفاقاً

جفا جو نے کی تھی وفا اتفاقاً بشر ہے ہوئی تھی خطا اتفاقاً زمانہ مجھے رند کہنے لگا ہے کبھی چکھ لیا تھا مزا اتفاقاً مری زندگی ڈھل گئی نغمگی میں سنی تھی کسی کی صدا اتفاقاً ترے ایک خط نے کیا راز افشا پڑا رہ گیا تھا کھلا اتفاقاً مری بے خودی نے جہاں لا کے چھوڑا ترے گھر کا تھا راستا ...

مزید پڑھیے

میں نظر سے پی رہا ہوں یہ سماں بدل نہ جائے

میں نظر سے پی رہا ہوں یہ سماں بدل نہ جائے نہ جھکاؤ تم نگاہیں کہیں رات ڈھل نہ جائے مرے اشک بھی ہیں اس میں یہ شراب ابل نہ جائے مرا جام چھونے والے ترا ہاتھ جل نہ جائے ابھی رات کچھ ہے باقی نہ اٹھا نقاب ساقی ترا رند گرتے گرتے کہیں پھر سنبھل نہ جائے مری زندگی کے مالک مرے دل پہ ہاتھ ...

مزید پڑھیے

رخ سے پردہ اٹھا دے ذرا ساقیا بس ابھی رنگ محفل بدل جائے گا

رخ سے پردہ اٹھا دے ذرا ساقیا بس ابھی رنگ محفل بدل جائے گا ہے جو بے ہوش وہ ہوش میں آئے گا گرنے والا ہے جو وہ سنبھل جائے گا لوگ سمجھے تھے یہ انقلاب آتے ہی نظم کہنہ چمن کا بدل جائے گا یہ خبر کس کو تھی آتش گل سے ہی تنکا تنکا نشیمن کا جل جائے گا تم تسلی نہ دو صرف بیٹھے رہو وقت کچھ میرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4066 سے 4657