شاعری

رات کا کیا ذکر ہے شام و سحر آیا نہیں

رات کا کیا ذکر ہے شام و سحر آیا نہیں کون سا الزام ہے جو میرے سر آیا نہیں یوں تو راہ بے خطر میں رہنما ملتے رہے پر خطر راہوں میں کوئی راہبر آیا نہیں کون جانے کس کے ڈر سے آج پھر میرا رفیق چاہتا تھا میرے گھر آنا مگر آیا نہیں اس قدر قربت بڑھی ہر نقش دھندلا ہو گیا وہ تھا میرے سامنے ...

مزید پڑھیے

بے گھر تھا پھر چھوڑ گیا گھر جانے کیوں

بے گھر تھا پھر چھوڑ گیا گھر جانے کیوں پار کیا ہے سات سمندر جانے کیوں آنکھیں حیراں دل ویراں ہیں چہرے زرد چیخ رہا ہے منظر منظر جانے کیوں آنکھوں میں مظلوموں کے بس آنسو ہیں فکر میں ہے ہر ایک ستم گر جانے کیوں تپتی ریت جھلستے سائے تند ہوا گھر سے نکلا موم کا پیکر جانے کیوں پھول سا ...

مزید پڑھیے

زمانہ اف یہ کیسا ہو رہا ہے

زمانہ اف یہ کیسا ہو رہا ہے جو سیدھا تھا وہ الٹا ہو رہا ہے اب اہل علم میں تاریکیاں ہیں جہالت میں سویرا ہو رہا ہے وہاں پر زندگی کیسے بچے گی جہاں قاتل مسیحا ہو رہا ہے بشر کا مقصد تخلیق دیکھو اسے ہونا تھا کیا کیا ہو رہا ہے یہ ہے تقلید مغرب کا نتیجہ جدا مسلم سے پردہ ہو رہا ہے ہماری ...

مزید پڑھیے

کوئی مفلس ہو کہ دھنوان چلا جاتا ہے

کوئی مفلس ہو کہ دھنوان چلا جاتا ہے موت جب آتی ہے انسان چلا جاتا ہے ناخدا دیکھتے رہتے ہیں کھڑے ساحل پر کشتیاں لوٹ لے طوفان چلا جاتا ہے اس مسافر کے لئے کچھ نہیں منزل کی خوشی جس کا رستے میں ہی سامان چلا جاتا ہے کیسا تاجر ہے منافع نہیں ہوتا تجھ کو تجھ کو ہر سودے میں نقصان چلا جاتا ...

مزید پڑھیے

برائے دل کشی لفظ و معانی مانگ لیتا ہے

برائے دل کشی لفظ و معانی مانگ لیتا ہے قلم سے روز کاغذ اک کہانی مانگ لیتا ہے شب فرقت میں جب دل ڈوب جاتا ہے اداسی میں ترے رنگیں تصور سے جوانی مانگ لیتا ہے بھلا دیتا ہے عظمت پیاس میں اپنی سمندر بھی بڑھا کر ہاتھ دریاؤں سے پانی مانگ لیتا ہے چراغ رہ گزر ہوں میں حقیقت ہے مگر یہ ...

مزید پڑھیے

فسردہ دل ہیں خوشی سے بچھڑ گئے ہیں لوگ

فسردہ دل ہیں خوشی سے بچھڑ گئے ہیں لوگ خدا کو بھول کے مشکل میں پڑ گئے ہیں لوگ غم اور درد کے جنگل اگے ہیں چہروں پر نئے زمانے میں کتنے اجڑ گئے ہیں لوگ ستم کی آندھی نے مسمار کر دیا ان کو یہ لگ رہا ہے جڑوں سے اکھڑ گئے ہیں لوگ نجات کی کوئی صورت نظر نہیں آتی دکھوں کے پھندے میں ایسے جکڑ ...

مزید پڑھیے

اگر ہمت جواں ہو شادمانی ڈھونڈ لیتی ہے

اگر ہمت جواں ہو شادمانی ڈھونڈ لیتی ہے ضرورت تپتے صحرا میں بھی پانی ڈھونڈ لیتی ہے کسی رنگین منظر تک رسائی جب نہیں ہوتی نظر افسردہ منظر میں جوانی ڈھونڈ لیتی ہے حدوں سے بڑھنے لگتی ہے گھٹن جب دیدہ و دل کی طریقہ گفتگو کا بے زبانی ڈھونڈ لیتی ہے نمائش دل کے زخموں کی چلو دلی میں کرتے ...

مزید پڑھیے

جن کو کچھ منظور رب کی دوستی سے کم نہیں

جن کو کچھ منظور رب کی دوستی سے کم نہیں موت بھی ان کے لئے تو زندگی سے کم نہیں ایک یہ بھی ہے عبادت کا طریقہ دوستو خدمت خلق خدا بھی بندگی سے کم نہیں پھر خیال آتا ہے نخوت ہے خدا کو نا پسند جی میں آتا تو ہے کہہ دیں ہم کسی سے کم نہیں صلح کا کیوں راستہ کرتے نہیں تم اختیار دشمنوں جب ہونے ...

مزید پڑھیے

یہ آبرو یہ شان یہ تیور بچا کے رکھ

یہ آبرو یہ شان یہ تیور بچا کے رکھ دل کو تو خواہشوں سے قلندر بچا کے رکھ محلوں کی فکر چھوڑ کہ برسات ہے قریب آندھی سے اپنا پھوس کا چھپر بچا کے رکھ چاروں طرف ہے آگ چمن میں لگی ہوئی اپنا وجود موم کے پیکر بچا کے رکھ کنگال کر نہ دے تجھے قطروں کی پرورش کچھ اپنے پاس بھی تو سمندر بچا کے ...

مزید پڑھیے

زبان کھول سوال و جواب کر کے دکھا

زبان کھول سوال و جواب کر کے دکھا اگر تو گونگا نہیں ہے خطاب کر کے دکھا مزاج پوچھ چراغوں کا آ کے دھرتی پر یہ کام بھی تو کبھی آفتاب کر کے دکھا نئے جہانوں کی بیکار کر رہا ہے تلاش اسی زمین پہ پیدا گلاب کر کے دکھا ادھورے قصوں کی اہل نظر نہ دیں گے داد انہیں تو دل کی مکمل کتاب کر کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4064 سے 4657