Masood Qureshi

مسعود قریشی

مسعود قریشی کی غزل

    اب بھی ملتے ہیں کرم بار نظر ہوتی ہے

    اب بھی ملتے ہیں کرم بار نظر ہوتی ہے پر ملاقات بہ انداز دگر ہوتی ہے اب نہ ہمدرد اندھیرا ہے نہ شب کا پردہ اب تری خیر ہو اے دل کہ سحر ہوتی ہے عشق اور حسن کو آپس میں مگن رہنے دو ورنہ بنیاد جہاں زیر و زبر ہوتی ہے ان کے جاتے ہی یہ ہو جاتی ہے حالت اپنی کان آہٹ پہ لگے در پہ نظر ہوتی ہے ہم ...

    مزید پڑھیے

    ہے سچ تو یہ کہ محبت کا حق ادا نہ ہوا

    ہے سچ تو یہ کہ محبت کا حق ادا نہ ہوا ستم تو ترک محبت کا اک بہانہ ہوا نکلتے ہیں ترے کوچے سے اب بھی جاں کی طرح اگرچہ قطع تعلق کیے زمانہ ہوا کبھی تو یوں تھا کہ امکاں ہی کیا جدائی کا اور اب لگے کہ تعارف بھی غائبانہ ہوا ہجوم یاد ملاقات مختصر کا ثمر ہر ایک لمحہ مہ و سال کا خزانہ ...

    مزید پڑھیے

    فرار خود سے مجھے دم بہ دم جہاں کی طرح

    فرار خود سے مجھے دم بہ دم جہاں کی طرح محیط مجھ پہ مری ذات آسماں کی طرح نگار خانۂ دل میں حنوط کر لے مجھے کہ ریگ وقت پہ ہوں میں ترے نشاں کی طرح میں اپنے خول میں محبوس مثل کرم و حریر میں اپنی قبر بناتا رہا مکاں کی طرح نہ تم سے درد کا شکوہ نہ تم سے شکر کرم کہ خیر و شر سے ہو تم ماورا ...

    مزید پڑھیے

    کس قدر زخم دل زار نے کھائے ہیں ابھی

    کس قدر زخم دل زار نے کھائے ہیں ابھی لاف زن مل کے مرے یار سے آئے ہیں ابھی رات کو آئیں گے عفریت مجسم بن کر یہ اجالے میں جو دیوار پہ سائے ہیں ابھی ان کے ویران کھنڈر عمر کے ساتھ ہوں گے کہاں دل نے ایواں جو طرحدار سجائے ہیں ابھی جس طرف آنکھ اٹھے جلوۂ رنگیں دیکھیں آنکھ میں خلوت دل دار ...

    مزید پڑھیے

    جب لگی آنچ تو شعلے سے شرارے ٹوٹے

    جب لگی آنچ تو شعلے سے شرارے ٹوٹے بڑھ گئی رات کی ظلمت تو ستارے ٹوٹے عشق کا ناز وفا حسن کا احسان جفا ہم جو ٹوٹے تو محبت کے ادارے ٹوٹے اب کھلا راز کہ ہیں خواب ہی دنیا کے ستون زلزلے آئے ہیں جب خواب ہمارے ٹوٹے وہ کہیں چھوڑ نہ دے یہ نہ جفا ہو جائے ایک جنجال سے چھوٹے جو سہارے ٹوٹے ہم ...

    مزید پڑھیے

    سنا ہے بن کے شکایت حضور تک پہنچی

    سنا ہے بن کے شکایت حضور تک پہنچی فغان زیر لبی کتنی دور تک پہنچی چھپے تو ہو گئے مستور گل میں بو کی طرح کھلے تو جلوہ گری برق طور تک پہنچی بیاں جو بات ہوئی کھو گئی وہ لفظوں میں جو ان کہی تھی وہ تحت الشعور تک پہنچی تھی بات دل میں تو معصومیت کا جوہر تھی چڑھی زباں پہ تو فسق و فجور تک ...

    مزید پڑھیے

    ظلمت ایسی کہ سجھائی نہیں دیتا کچھ بھی

    ظلمت ایسی کہ سجھائی نہیں دیتا کچھ بھی نور اتنا کہ دکھائی نہیں دیتا کچھ بھی خامشی کی وہ خلا لفظ لبوں سے گر جائیں شور اتنا کہ سنائی نہیں دیتا کچھ بھی ایک ہمدرد نے پھر لوٹ لی دل کی بستی دل وہ خوگر کہ دہائی نہیں دیتا کچھ بھی بر سر راہ بھی گلزار کھلے ہیں کتنے دھن میں منزل کی دکھائی ...

    مزید پڑھیے

    ہر آس توڑ کے جب ہم سبک صبا سے ہوئے

    ہر آس توڑ کے جب ہم سبک صبا سے ہوئے نگاہ یار کے انداز آشنا سے ہوئے تری طلب میں عجب مرحلوں سے گزرے ہیں کبھی تو خود سے کبھی بد گماں خدا سے ہوئے یہ زعم تھا کہ ہمیں سے ہے ان کا نام و نشاں بچھڑ کے ان سے ہمیں بے نشاں ہوا سے ہوئے لبوں پہ شور تبسم ہے دل میں سناٹا ہوئے دو لخت جدا ہم جو آشنا ...

    مزید پڑھیے

    خار و خس فخر چمن ہیں گل خنداں کم ہے

    خار و خس فخر چمن ہیں گل خنداں کم ہے باغ ویرانہ زیادہ ہے گلستاں کم ہے ہر مسیحا کو جنوں جشن مسیحائی کا ہر نفس درد کی تشہیر ہے درماں کم ہے بھول جاتے ہیں کہ ہر زخم زباں رکھتا ہے سوچتے ہیں کہ مری تیغ نمایاں کم ہے رحم اے چارہ گراں حد رفو سے گزرے چاک داماں ہے بہت تار گریباں کم ہے سائے ...

    مزید پڑھیے

    کسی طرف نہ گرہ کا سرا دکھائی دے

    کسی طرف نہ گرہ کا سرا دکھائی دے نہ کوئی ناخن عقدہ کشا دکھائی دے یہی طلسم تو ایوان اقتدار میں ہے کہ خود کو بندۂ عاجز خدا دکھائی دے تمام شہر نے چہرے بدل لیے شاید ترس گئے ہیں کوئی آشنا دکھائی دے مشام جاں تری خوشبو سے اس قدر مانوس مہک بدن کی بہ دوش صبا دکھائی دے زمیں کا چاند مرا ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 4 سے 5