خار و خس فخر چمن ہیں گل خنداں کم ہے

خار و خس فخر چمن ہیں گل خنداں کم ہے
باغ ویرانہ زیادہ ہے گلستاں کم ہے


ہر مسیحا کو جنوں جشن مسیحائی کا
ہر نفس درد کی تشہیر ہے درماں کم ہے


بھول جاتے ہیں کہ ہر زخم زباں رکھتا ہے
سوچتے ہیں کہ مری تیغ نمایاں کم ہے


رحم اے چارہ گراں حد رفو سے گزرے
چاک داماں ہے بہت تار گریباں کم ہے


سائے قاتل نظر آتے ہیں صدائیں دشمن
خوف ہی خوف ہے خطرات کا عرفاں کم ہے


وہ نہ آئیں تو بنے درد کا درماں دوری
ظلم تو یہ ہے نہ آنے کا بھی امکاں کم ہے


قرب و دوری تو فقط وقت کی مجبوری ہے
ہر گھڑی آنے کا امکاں ہے یہ احساں کم ہے