ظلمت ایسی کہ سجھائی نہیں دیتا کچھ بھی

ظلمت ایسی کہ سجھائی نہیں دیتا کچھ بھی
نور اتنا کہ دکھائی نہیں دیتا کچھ بھی


خامشی کی وہ خلا لفظ لبوں سے گر جائیں
شور اتنا کہ سنائی نہیں دیتا کچھ بھی


ایک ہمدرد نے پھر لوٹ لی دل کی بستی
دل وہ خوگر کہ دہائی نہیں دیتا کچھ بھی


بر سر راہ بھی گلزار کھلے ہیں کتنے
دھن میں منزل کی دکھائی نہیں دیتا کچھ بھی


دشت سے دولت سیال ملی اوروں کو
ہم کو جز آبلہ پائی نہیں دیتا کچھ بھی