جب لگی آنچ تو شعلے سے شرارے ٹوٹے

جب لگی آنچ تو شعلے سے شرارے ٹوٹے
بڑھ گئی رات کی ظلمت تو ستارے ٹوٹے


عشق کا ناز وفا حسن کا احسان جفا
ہم جو ٹوٹے تو محبت کے ادارے ٹوٹے


اب کھلا راز کہ ہیں خواب ہی دنیا کے ستون
زلزلے آئے ہیں جب خواب ہمارے ٹوٹے


وہ کہیں چھوڑ نہ دے یہ نہ جفا ہو جائے
ایک جنجال سے چھوٹے جو سہارے ٹوٹے


ہم غباروں کے سہارے تو بہت اوج پہ تھے
جب حقیقت کی لگی دھوپ غبار ٹوٹے


اب تو کچھ جاں ہی سلامت ہے نہ تن ہی محفوظ
سب کو عجلت سبھی خود کار اشارے ٹوٹے