ہے سچ تو یہ کہ محبت کا حق ادا نہ ہوا

ہے سچ تو یہ کہ محبت کا حق ادا نہ ہوا
ستم تو ترک محبت کا اک بہانہ ہوا


نکلتے ہیں ترے کوچے سے اب بھی جاں کی طرح
اگرچہ قطع تعلق کیے زمانہ ہوا


کبھی تو یوں تھا کہ امکاں ہی کیا جدائی کا
اور اب لگے کہ تعارف بھی غائبانہ ہوا


ہجوم یاد ملاقات مختصر کا ثمر
ہر ایک لمحہ مہ و سال کا خزانہ ہوا


کسی کو ہم سا کہاں درد سبزہ و گل کا
کہ اس چمن میں ہمارا تو آشیانہ ہوا