فرار خود سے مجھے دم بہ دم جہاں کی طرح

فرار خود سے مجھے دم بہ دم جہاں کی طرح
محیط مجھ پہ مری ذات آسماں کی طرح


نگار خانۂ دل میں حنوط کر لے مجھے
کہ ریگ وقت پہ ہوں میں ترے نشاں کی طرح


میں اپنے خول میں محبوس مثل کرم و حریر
میں اپنی قبر بناتا رہا مکاں کی طرح


نہ تم سے درد کا شکوہ نہ تم سے شکر کرم
کہ خیر و شر سے ہو تم ماورا زماں کی طرح


قدم قدم وہ مرے ساتھ اور میں تنہا
ملے ہیں دوست مرے مجھ سے آسماں کی طرح


اگر گلہ ہے تو ہے خود سے بے وفائی کا
کہ لحظہ لحظہ دگر گوں ہوں میں جہاں کی طرح


مرے ضمیر میں آسودہ وقت کے طوفاں
وسیع ظرف مرا بحر بیکراں کی طرح