Masood Qureshi

مسعود قریشی

مسعود قریشی کی غزل

    ستم کا ہاتھ نہ روکا مگر برا تو کہا

    ستم کا ہاتھ نہ روکا مگر برا تو کہا جو زیر لب سبھی کہتے تھے برملا تو کہا تمام شہر تھا منکر ترے تعلق سے غریب شہر تجھے ہم نے آشنا تو کہا پگھل رہی ہے تغافل کی برف اب شاید کہ مسکرا کے مجھے یار بے وفا تو کہا وفا کا قحط ہے اتنا کہ اب سر مقتل میں اس پہ خوش ہوں کہ یاروں نے مرحبا تو ...

    مزید پڑھیے

    رقصاں شرار دل تری موج سخن سے تھا

    رقصاں شرار دل تری موج سخن سے تھا تنہائی میں یہ قرب تری انجمن سے تھا میرا سخن ہی تھا مرا سرمایۂ حیات پھر میں ہوا شہید بھی اپنے سخن سے تھا دانشوری کا زہر نہ تھا مجھ پہ کارگر میرے لباس خاص خرد کے کفن سے تھا لٹنے سے بھی سوا تھا شکست یقیں کا غم شب خوں کا احتمال تو تھا راہزن سے ...

    مزید پڑھیے

    کون مصلوب ہوا حسن کا کردار کہ ہم

    کون مصلوب ہوا حسن کا کردار کہ ہم شہرت عشق میں بدنام ہوا یار کہ ہم دن کو تھا کوچۂ دل دار میں سایوں کا ہجوم رات آئی تو گئے سایۂ دیوار کہ ہم عشق کے ربط سے ہے حسن کا پیکر تاباں کٹ کے اب آپ ہوئے نقش بہ دیوار کہ ہم شور تحسین سے ہیں خلق کے چہرے روشن سرخ رو بازوئے قاتل ہے کہ تلوار کہ ...

    مزید پڑھیے

    بستیاں چپ جو ہوئیں بن بولے

    بستیاں چپ جو ہوئیں بن بولے شہر خاموش میں مدفن بولے باغبانی کا ہے سب کو دعوے آ گیا وقت کہ گلشن بولے نوک خنجر پہ صدا تلتی ہے اب اگر بول سکے فن بولے دل پہ ہیں نقش وہ تیری باتیں جب زباں گنگ ہوئی تن بولے کوئی پیرایۂ اظہار تو ہو چپ ہیں الفاظ تو دھڑکن بولے

    مزید پڑھیے

    سب کی زباں پہ ذکر تری تند خو کا تھا

    سب کی زباں پہ ذکر تری تند خو کا تھا میرے لبوں پہ قفل تری آبرو کا تھا میں گو مگو میں ہی ترے در سے پلٹ گیا آواز دوستوں کی تھی لہجہ عدو کا تھا چارہ گروں کو فکر تھی نام و نمود کی گو اہتمام زخم جگر کے رفو کا تھا میں بحر زندگی میں جزیرہ نما رہا دنیا سے ایک ربط تری آرزو کا تھا ہر خوبرو ...

    مزید پڑھیے

    ہم سے گفتگو ایسے دے کوئی بیاں جیسے

    ہم سے گفتگو ایسے دے کوئی بیاں جیسے قاعدے کے لفظوں کو مل گئی زباں جیسے دوستی کی یہ منزل ہے وبال جاں کتنی بات بات پر ابرو کھنچ گئے کماں جیسے بات چیت یاروں سے پل صراط پر چلنا لفظ ملتا رہتا ہے بزم ہو دکاں جیسے دیکھتا ہوں چہروں کو میں تلاش میں اپنی نقش خوب غیروں کے ہوں مرا نشاں ...

    مزید پڑھیے

    کس تباہی کے یہ آثار نظر آتے ہیں

    کس تباہی کے یہ آثار نظر آتے ہیں دشت میں بھی در و دیوار نظر آتے ہیں اٹھ گیا آنکھ سے پردہ کہ حقیقت بدلی جتنے غم خوار تھے خونخوار نظر آتے ہیں سب کے چہروں پہ ہے غم اشک ہیں آوازوں میں دوست سب مجھ کو اداکار نظر آتے ہیں ان کے سینوں میں ہے طوفان بلا آسودہ یہ جو ساحل پہ سبک سار نظر آتے ...

    مزید پڑھیے

    غریق جلوہ کسی جلوہ گر کو کیا دیکھے

    غریق جلوہ کسی جلوہ گر کو کیا دیکھے جو تیری دھن میں چلا رہ گزر کو کیا دیکھے سحر کے ساتھ ہی سر پر چڑھا پہاڑ سا دن سر خمیدہ جمال سحر کو کیا دیکھے دبے ہوئے ہیں مکیں بار سنگ و آہن سے غریب شہر یہاں بام و در کو کیا دیکھے مسافروں کی طرح منزلیں سفر میں ہیں کدھر کو جائے کوئی رہ گزر کو کیا ...

    مزید پڑھیے

    ہم بڑے دشت بلا سے گزرے

    ہم بڑے دشت بلا سے گزرے ان سے گزرے نہ خدا سے گزرے بارہا شہر وفا سے گزرے ایک سنسان فضا سے گزرے ہم نے ہر بار در دل کھولا حادثے تیری ادا سے گزرے دل میں بکھرے تھے تری یاد کے پھول غم کے لشکر بھی صبا سے گزرے تلخ یادوں میں تھی خوشبوئے وفا اب کے جب کوئے جفا سے گزرے ہر قدم تیر ملامت کے ...

    مزید پڑھیے

    کھلے جو ہم تو بڑھے ہم میں فاصلے کتنے

    کھلے جو ہم تو بڑھے ہم میں فاصلے کتنے بجائے شکر کرم لب پہ تھے گلے کتنے کبھی صلیب کبھی زہر اور کبھی خنجر ثبات عشق ملے ہیں تجھے ملے کتنے کوئی گلو پہ کوئی ہاتھ جیب و داماں پر رہے ہیں چارہ گروں سے مقابلے کتنے وصال و ہجر تو دو لفظ ہیں محبت میں تعلقات میں ہیں اور سلسلے کتنے ہوئی ہے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 5