Masood Qureshi

مسعود قریشی

مسعود قریشی کی غزل

    جانے کیا دل پہ دم بدم گزری

    جانے کیا دل پہ دم بدم گزری اک قیامت قدم قدم گزری غم کو جب جزو زندگی جانا زندگی بے نیاز غم گزری آرزو کوچۂ محبت سے خندہ در دل بہ چشم نم گزری دوستی بن گئی رواداری بے رخی دل پہ بار کم گزری عمر بھر کا عذاب بن بیٹھی وہ جو دو چار دن بہم گزری

    مزید پڑھیے

    لغزش پا میں فسانے کتنے

    لغزش پا میں فسانے کتنے طے ہوئے پل میں زمانے کتنے کوئی گاہک نہ ملا وعدوں کا ہو گئے لوگ سیانے کتنے میں طلب تھا سر‌‌ دربار جفا مل گئے یار پرانے کتنے آپ کو کام بہت دن چھوٹے جی نہ چاہے تو بہانے کتنے اب تو صد چاک ہیں گل کے پردے راز کھولے ہیں صبا نے کتنے میں نہ پہچان سکا آج انہیں بن ...

    مزید پڑھیے

    رو میں جذبوں کی بہہ گئے ہم لوگ

    رو میں جذبوں کی بہہ گئے ہم لوگ خشک ساحل پہ رہ گئے ہم لوگ ظلمت و نور کے کنائے میں بات نازک سی کہہ گئے ہم لوگ ہر مصاحب بہت خجل پایا جب کبھی پیش شہہ گئے ہم لوگ منعکس تھی تری ضیا ہم میں تو جو ڈوبا تو کہہ گئے ہم لوگ اس تناسب سے ہم سبک ٹھہرے جس قدر سوئے مہ گئے ہم لوگ

    مزید پڑھیے

    کوئی بھی خود کو بدلتا نظر نہیں آتا

    کوئی بھی خود کو بدلتا نظر نہیں آتا عذاب آئے گا ٹلتا نظر نہیں آتا زمیں کو روک لیا ہے کشش نے سورج کی یہ دن تو رات میں ڈھلتا نظر نہیں آتا لگے ہے یوں کہ اگے ہیں درخت پتھر کے کوئی بھی پھولتا پھلتا نظر نہیں آتا دھواں بھرا ہے مکاں میں سلگتے ہیں در و بام مکیں تو آنکھ بھی ملتا نظر نہیں ...

    مزید پڑھیے

    محفل غم میں ضیا تو ہوگی

    محفل غم میں ضیا تو ہوگی دل جلیں گے تو جلا تو ہوگی کرۂ ارض کو ہی لوٹ چلو سانس لینے کو ہوا تو ہوگی کوئی سمجھے کہ نہ سمجھے لیکن بات ہونٹوں سے جدا تو ہوگی میں تو اس شہر سے ناواقف ہوں اس میں سچ بات روا تو ہوگی لب تو خاموش ہیں حسب ارشاد دل دھڑکنے کی صدا تو ہوگی

    مزید پڑھیے
صفحہ 5 سے 5