ہر آس توڑ کے جب ہم سبک صبا سے ہوئے
ہر آس توڑ کے جب ہم سبک صبا سے ہوئے
نگاہ یار کے انداز آشنا سے ہوئے
تری طلب میں عجب مرحلوں سے گزرے ہیں
کبھی تو خود سے کبھی بد گماں خدا سے ہوئے
یہ زعم تھا کہ ہمیں سے ہے ان کا نام و نشاں
بچھڑ کے ان سے ہمیں بے نشاں ہوا سے ہوئے
لبوں پہ شور تبسم ہے دل میں سناٹا
ہوئے دو لخت جدا ہم جو آشنا سے ہوئے
کفن عروس معانی کا جامۂ الفاظ
خیال جان بہ لب تنگیٔ قبا سے ہوئے