Masood Qureshi

مسعود قریشی

مسعود قریشی کی غزل

    جلوۂ شام ہے یہ صبح کا منظر تو نہیں

    جلوۂ شام ہے یہ صبح کا منظر تو نہیں چاند کیسا بھی ہو سورج کے برابر تو نہیں قحط شمشاد قداں وجۂ سرافرازی ہے ورنہ سرکار کچھ ایسے بھی قد آور تو نہیں اسم اعظم کوئی پھونکے تو یہ جادو ٹوٹے بت بنے سحر سے ہم سنگ کے پیکر تو نہیں کام آئے گی سر و سنگ کی نسبت ورنہ در نما نقش ہیں دیوار پہ یہ در ...

    مزید پڑھیے

    ترے ستم کا بہت غلغلہ سنائی دے

    ترے ستم کا بہت غلغلہ سنائی دے مرے حبیب مجھے اذن لب کشائی دے ملیں جو ہم تو زمانہ گماں کرے کیا کیا خدائے پاک اسے قلب کی صفائی دے ہیں نخوتوں کے بھی کانٹے گل عبادت میں غرور و کبر کا پھل شاخ پارسائی دے یہ کس قبیل کے لوگوں سے ربط ہے تیرا کہ جو بھی بزم سے نکلے تری دہائی دے نظام دہر ...

    مزید پڑھیے

    رہبر قوم سمجھ لے یہ حقیقت ہے بڑی

    رہبر قوم سمجھ لے یہ حقیقت ہے بڑی قوم چھوٹی ہے مگر اس کی روایت ہے بڑی چادر و قامت فاروق پہ رکھتے ہیں نظر احتساب ان کا کڑا اور اطاعت ہے بڑی راہبر بدلا تو پھر سے سفر آغاز ہوا دشت گم راہ میں اس طور مسافت ہے بڑی کیا ادارے تھے جو ٹوٹے ہیں انا کی خاطر ان کی تفصیل نہ پوچھو یہ حکایت ہے ...

    مزید پڑھیے

    کچھ دنوں سے یہ ہوئی بات نئی

    کچھ دنوں سے یہ ہوئی بات نئی جب ملو ان سے ملاقات نئی میں اسی وضع کہن کا پابند سیکھ لیں آپ نے عادات نئی روز و شب کا بھی تواتر ٹوٹا صبح دم پھوٹ پڑی رات نئی بازیٔ عشق ہے کتنی دلچسپ حسن کی چال وہی مات نئی عام ہیں تاج محل وعدوں کے آپ کیا لائے ہیں سوغات نئی

    مزید پڑھیے

    مسکرا دیں تو کوئی خیر خبر آ جائے

    مسکرا دیں تو کوئی خیر خبر آ جائے ہوں جو برہم تو کٹا طشت میں سر آ جائے دوستو راہ میں منزل کے نشاں بھی دیکھو چلتے چلتے نہ پھر آغاز سفر آ جائے منفرد حسن کی دشوار ہے پردہ داری سو حجابوں میں بھی انداز نظر آ جائے رات کی بات رہے پردۂ تاریکی میں شام کا بھولا اگر صبح کو گھر آ جائے اتنی ...

    مزید پڑھیے

    زمیں نے ان کو سنبھالا جو آسماں سے گرے

    زمیں نے ان کو سنبھالا جو آسماں سے گرے کہاں ہے ان کا سہارا جو خاکداں سے گرے جو مطمئن ہیں بلندی پہ نخل خرما کی اس آسمان کو دیکھیں کبھی جہاں سے گرے اب اس کو دیکھ کے ہی دل کو خوف آتا ہے بلند بام تھے ہم کس قدر کہاں سے گرے شکستہ سنگ بڑے آستاں کے وارث ہیں کہ تھا مقام معلیٰ یہ بت جہاں سے ...

    مزید پڑھیے

    طلوع صبح سے کب کب زوال شب سے ہوا

    طلوع صبح سے کب کب زوال شب سے ہوا جہاں میں نور فقط برق نطق و لب سے ہوا جدا جدا تھے بہت نیک نام ہم دونوں ملامتوں کا ہدف ہیں ملاپ جب سے ہوا ملے ہو تم تو ہوئی قدر دل کو لمحوں کی گزر چکی ہے بہت پر حساب اب سے ہوا ہر ایک چاہنے والا بنا ہے خسرو غم دیار عشق میں یہ انقلاب کب سے ہوا لہو کی ...

    مزید پڑھیے

    ہر لفظ اور لفظ کی تفسیر بن گیا

    ہر لفظ اور لفظ کی تفسیر بن گیا یوں گفتگو کا سلسلہ زنجیر بن گیا اب اور کیا ثبوت وفاداریوں کا دوں دیکھا جو اس نے خواب میں تعبیر بن گیا اس کی طرف سے تیر ملامت کا رخ ہٹے میں بزم بیچ لائق تعزیر بن گیا کھلتا کہاں یہ راز بھلا اس ہجوم میں لیکن میں اس کو دیکھ کے تصویر بن گیا پڑتے رہے ہیں ...

    مزید پڑھیے

    کبھی تو ان کی طرف سے صفائیاں اتنی

    کبھی تو ان کی طرف سے صفائیاں اتنی کبھی ادائے جفا پر دہائیاں اتنی ہم اجنبی تھے تو تھیں ہم میں خوبیاں کیا کیا ملے تو نکلیں ہمیں میں برائیاں اتنی مرا خیال تو یہ ہے کہ اب سے کھل کے ملیں جب احتیاط پہ ہیں جگ ہنسائیاں اتنی گلا تھا بہر گلہ لیکن اب تو شک گزرا حضور پیش نہ کرتے صفائیاں ...

    مزید پڑھیے

    ہم سے اب راہ پہ آنے والے

    ہم سے اب راہ پہ آنے والے رہ گئے راہ دکھانے والے ہم نے لو ان کا سہارا چھوڑا اب سنبھالیں بھی زمانے والے پھر وہی دوست وہی فرصت غم آ گئے دور پرانے والے اب ہے آسودگیٔ مرگ دوام اٹھ گئے حشر اٹھانے والے لو وہی شاہ بنے بیٹھے ہیں ہم کو شاہوں سے لڑانے والے

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 5