سنا ہے بن کے شکایت حضور تک پہنچی

سنا ہے بن کے شکایت حضور تک پہنچی
فغان زیر لبی کتنی دور تک پہنچی


چھپے تو ہو گئے مستور گل میں بو کی طرح
کھلے تو جلوہ گری برق طور تک پہنچی


بیاں جو بات ہوئی کھو گئی وہ لفظوں میں
جو ان کہی تھی وہ تحت الشعور تک پہنچی


تھی بات دل میں تو معصومیت کا جوہر تھی
چڑھی زباں پہ تو فسق و فجور تک پہنچی