کس قدر زخم دل زار نے کھائے ہیں ابھی
کس قدر زخم دل زار نے کھائے ہیں ابھی
لاف زن مل کے مرے یار سے آئے ہیں ابھی
رات کو آئیں گے عفریت مجسم بن کر
یہ اجالے میں جو دیوار پہ سائے ہیں ابھی
ان کے ویران کھنڈر عمر کے ساتھ ہوں گے کہاں
دل نے ایواں جو طرحدار سجائے ہیں ابھی
جس طرف آنکھ اٹھے جلوۂ رنگیں دیکھیں
آنکھ میں خلوت دل دار کے سائے ہیں ابھی
ناز سے جنس دل و جاں کی نمائش اتنی
آپ کیا عشق کے بازار میں آئے ہیں ابھی