اب بھی ملتے ہیں کرم بار نظر ہوتی ہے
اب بھی ملتے ہیں کرم بار نظر ہوتی ہے
پر ملاقات بہ انداز دگر ہوتی ہے
اب نہ ہمدرد اندھیرا ہے نہ شب کا پردہ
اب تری خیر ہو اے دل کہ سحر ہوتی ہے
عشق اور حسن کو آپس میں مگن رہنے دو
ورنہ بنیاد جہاں زیر و زبر ہوتی ہے
ان کے جاتے ہی یہ ہو جاتی ہے حالت اپنی
کان آہٹ پہ لگے در پہ نظر ہوتی ہے
ہم جو رخصت ہوئے دنیا سے تو دنیا چونکی
دل نہ جب دھڑکے جبھی دل کی خبر ہوتی ہے