کسی طرف نہ گرہ کا سرا دکھائی دے

کسی طرف نہ گرہ کا سرا دکھائی دے
نہ کوئی ناخن عقدہ کشا دکھائی دے


یہی طلسم تو ایوان اقتدار میں ہے
کہ خود کو بندۂ عاجز خدا دکھائی دے


تمام شہر نے چہرے بدل لیے شاید
ترس گئے ہیں کوئی آشنا دکھائی دے


مشام جاں تری خوشبو سے اس قدر مانوس
مہک بدن کی بہ دوش صبا دکھائی دے


زمیں کا چاند مرا کائنات میں یکتا
اگر ہے اس سا کوئی دوسرا دکھائی دے