طلوع صبح سے کب کب زوال شب سے ہوا
طلوع صبح سے کب کب زوال شب سے ہوا
جہاں میں نور فقط برق نطق و لب سے ہوا
جدا جدا تھے بہت نیک نام ہم دونوں
ملامتوں کا ہدف ہیں ملاپ جب سے ہوا
ملے ہو تم تو ہوئی قدر دل کو لمحوں کی
گزر چکی ہے بہت پر حساب اب سے ہوا
ہر ایک چاہنے والا بنا ہے خسرو غم
دیار عشق میں یہ انقلاب کب سے ہوا
لہو کی دھار کو سمجھے حقیر خنجر سے
زوال صاحب جاناں اسی سبب سے ہوا
کسی ادا کو ستم کہہ دیا کسی کو کرم
یہ اختیار دل زار تم کو کب سے ہوا
سجی ہیں دل میں تمہارے کرم کی تصویریں
ادھر سے غم کا گزر بھی بڑے ادب سے ہوا