ترے ستم کا بہت غلغلہ سنائی دے
ترے ستم کا بہت غلغلہ سنائی دے
مرے حبیب مجھے اذن لب کشائی دے
ملیں جو ہم تو زمانہ گماں کرے کیا کیا
خدائے پاک اسے قلب کی صفائی دے
ہیں نخوتوں کے بھی کانٹے گل عبادت میں
غرور و کبر کا پھل شاخ پارسائی دے
یہ کس قبیل کے لوگوں سے ربط ہے تیرا
کہ جو بھی بزم سے نکلے تری دہائی دے
نظام دہر محبت پہ استوار کریں
خدا ہم اہل محبت کو گر خدائی دے