جلوۂ شام ہے یہ صبح کا منظر تو نہیں

جلوۂ شام ہے یہ صبح کا منظر تو نہیں
چاند کیسا بھی ہو سورج کے برابر تو نہیں


قحط شمشاد قداں وجۂ سرافرازی ہے
ورنہ سرکار کچھ ایسے بھی قد آور تو نہیں


اسم اعظم کوئی پھونکے تو یہ جادو ٹوٹے
بت بنے سحر سے ہم سنگ کے پیکر تو نہیں


کام آئے گی سر و سنگ کی نسبت ورنہ
در نما نقش ہیں دیوار پہ یہ در تو نہیں


جذبۂ شوکت تعمیر بنا مرقد شوق
اس نئے شہر کے یہ تاج محل گھر تو نہیں