ہر لفظ اور لفظ کی تفسیر بن گیا

ہر لفظ اور لفظ کی تفسیر بن گیا
یوں گفتگو کا سلسلہ زنجیر بن گیا


اب اور کیا ثبوت وفاداریوں کا دوں
دیکھا جو اس نے خواب میں تعبیر بن گیا


اس کی طرف سے تیر ملامت کا رخ ہٹے
میں بزم بیچ لائق تعزیر بن گیا


کھلتا کہاں یہ راز بھلا اس ہجوم میں
لیکن میں اس کو دیکھ کے تصویر بن گیا


پڑتے رہے ہیں پیچ سدا راہ عشق میں
تدبیر بن گئی تو وہ تقدیر بن گیا