ہم سے اب راہ پہ آنے والے
ہم سے اب راہ پہ آنے والے
رہ گئے راہ دکھانے والے
ہم نے لو ان کا سہارا چھوڑا
اب سنبھالیں بھی زمانے والے
پھر وہی دوست وہی فرصت غم
آ گئے دور پرانے والے
اب ہے آسودگیٔ مرگ دوام
اٹھ گئے حشر اٹھانے والے
لو وہی شاہ بنے بیٹھے ہیں
ہم کو شاہوں سے لڑانے والے