زمیں نے ان کو سنبھالا جو آسماں سے گرے
زمیں نے ان کو سنبھالا جو آسماں سے گرے
کہاں ہے ان کا سہارا جو خاکداں سے گرے
جو مطمئن ہیں بلندی پہ نخل خرما کی
اس آسمان کو دیکھیں کبھی جہاں سے گرے
اب اس کو دیکھ کے ہی دل کو خوف آتا ہے
بلند بام تھے ہم کس قدر کہاں سے گرے
شکستہ سنگ بڑے آستاں کے وارث ہیں
کہ تھا مقام معلیٰ یہ بت جہاں سے گرے
جنہیں نصیب نے دی اقتدار کی مسند
انہیں ہے زعم تھے نا اہل جو یہاں سے گرے